رپورٹ کے مطابق، ان ٹاؤنز میں 93 لاکھ مربع فٹ سڑکوں اور گلیوں کی تعمیرِ نو کی گئی، جبکہ 25 کھیل کے میدانوں کو بھی بحال کیا گیا۔ اس کے علاوہ 86 ہزار سے زائد گھروں کو پانی کی فراہمی اور نکاسیٔ آب کی لائنوں سے منسلک کرنے کا بتایا گیا ہے۔

کراچی کو طویل عرصے سے سڑکوں کی خستہ حالی، پانی کی قلت، نکاسیٔ آب اور دیگر بنیادی شہری سہولتوں سے متعلق مسائل کا سامنا ہے۔ ایسے میں مختلف ٹاؤنز میں ہونے والے ترقیاتی کاموں کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، تاہم ان منصوبوں کی تکمیل، معیار اور شہریوں کو حاصل ہونے والے فوائد سے متعلق مزید معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، بحال کیے گئے 171 پارکوں اور 25 کھیل کے میدانوں کے علاوہ ایک لاکھ سے زیادہ اسٹریٹ لائٹس نصب کی گئیں۔ سڑکوں اور گلیوں کی تعمیرِ نو کے لیے 93 لاکھ مربع فٹ کا رقبہ بتایا گیا ہے، جبکہ 86 ہزار سے زائد گھروں کو پانی اور نکاسیٔ آب کی لائنوں سے منسلک کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

تعلیم کے شعبے میں نو ٹاؤنز کے 42 سرکاری اسکولوں کی بحالی کی اطلاع دی گئی ہے۔ ان میں لیاقت آباد ٹاؤن کے نو اسکول بھی شامل ہیں، جہاں تعمیرِ نو اور تزئین و آرائش کا کام کیا گیا۔

اس کے علاوہ 50 ہزار طلبہ کو تعلیم کارڈ فراہم کرنے کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ منصوبے کے تحت ہر اہل طالب علم کو 10 ہزار روپے مالیت کا کارڈ دینے کی تجویز ہے، جس کے ذریعے کتابیں، کاپیاں، یونیفارم، جوتے اور دیگر تعلیمی ضروریات کی اشیا خریدی جا سکیں گی۔ تاہم، کارڈز کی تقسیم کے آغاز اور مستحق طلبہ کے انتخاب کے طریقۂ کار سے متعلق تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

طلبہ کی سفری سہولتوں کے حوالے سے دسمبر 2025 میں جامعہ کراچی اور جماعت اسلامی کے زیرِ انتظام آٹھ ٹاؤنز کے درمیان ایک معاہدہ بھی ہوا تھا۔ اس کے تحت ہر ٹاؤن اپنے اخراجات پر جامعہ کراچی کی ایک پوائنٹ بس کی مرمت اور بحالی کرے گا۔ اس معاہدے پر عمل درآمد اور بسوں کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

یہ ترقیاتی سرگرمیاں ایسے وقت میں رپورٹ کی گئی ہیں جب کراچی کے مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی، نکاسیٔ آب، سڑکوں کی مرمت اور دیگر شہری سہولتوں سے متعلق مسائل زیرِ بحث رہتے ہیں۔ شہر میں ان مسائل کے حل کے لیے بلدیاتی اداروں، صوبائی حکومت اور متعلقہ محکموں کے درمیان رابطہ اور منصوبوں پر عمل درآمد اہمیت رکھتا ہے۔