اس ہیکاتھون کے لیے ملک بھر سے 16 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہوئیں، جن میں سے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں ہونے والے علاقائی کوالیفائرز کے بعد 430 سے زائد ٹیموں کو شارٹ لسٹ کیا گیا۔ اب منتخب فائنلسٹ ٹیمیں قومی سطح پر ہونے والے فائنل میں اپنے منصوبے ماہر ججز کے سامنے پیش کریں گی۔
اس مقابلے کا مقصد نوجوانوں کو محض اے آئی ٹیکنالوجی استعمال کرنے تک محدود رکھنے کے بجائے ایسے ڈویلپرز اور اختراع کاروں کے طور پر تیار کرنا ہے جو حقیقی مسائل کے حل کے لیے عملی ٹیکنالوجی مصنوعات بنا سکیں۔
الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان اس ایونٹ کی میزبان اور انتظامی شراکت دار ہے، جبکہ بنو قابل نوجوانوں کی تعلیم اور بااختیاری کے شراکت دار کے طور پر کام کر رہا ہے۔ علی بابا کلاؤڈ اس منصوبے کا گلوبل کلاؤڈ اور اے آئی ٹیکنالوجی پارٹنر ہے اور شرکا کو ٹیکنالوجی سے متعلق معاونت فراہم کر رہا ہے۔
نیشنل گرینڈ فائنل ہفتے، 24 اکتوبر 2026 کو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک اسلام آباد کے پاکستان چائنا فرینڈشپ سینٹر، گارڈن ایونیو، شکرپڑیاں میں منعقد ہوگا۔ شرکا اور میڈیا کے لیے رجسٹریشن صبح 8 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگی، جبکہ ایونٹ کا باقاعدہ آغاز صبح 9 بجے ہوگا۔
علاقائی کوالیفائرز میں ملک بھر سے طلبہ، ڈویلپرز، محققین اور اے آئی اسٹارٹ اپس نے حصہ لیا، جن میں سے منتخب ٹیمیں اب فائنل میں اپنے منصوبوں کی صلاحیت کا مظاہرہ کریں گی۔ مقابلے میں اسمارٹ زراعت، مالیاتی شمولیت، علاقائی زبانوں کے اے آئی ماڈلز، طبی تشخیص اور اوپن انوویشن جیسے شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔
شرکا کو تکنیکی تربیت، ماہرین کی رہنمائی اور جدید ڈیولپمنٹ ٹولز تک رسائی فراہم کرنے کا مقصد ایسے عملی حل تیار کرنا ہے جو حقیقی دنیا کے مسائل کو حل کر سکیں۔ فائنل میں ٹیمیں اپنے منصوبے ججز کے سامنے پیش کریں گی، جہاں ان کے آئیڈیاز کی افادیت اور حقیقی مسائل حل کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جائے گا۔
منتظمین کو توقع ہے کہ اس ایونٹ میں 1,500 سے 2,000 یا اس سے زائد افراد شرکت کریں گے، جن میں مقابلے کی ٹیمیں، مینٹورز، ججز، ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ رہنما، صنعت کے نمائندے اور مدعو مہمان شامل ہوں گے۔ اس اجتماع کو پاکستان کے اے آئی اور ٹیکنالوجی ایکوسسٹم کے اہم مواقع میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے، جہاں نوجوان اختراع کاروں کو صنعت کے ماہرین سے رابطے اور تعاون کے مواقع میسر آئیں گے۔
یہ ہیکاتھون علی بابا کلاؤڈ اور الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان کے درمیان وسیع تر شراکت داری کا حصہ ہے۔ اس تعاون میں بنو قابل نیٹ ورک کے ذریعے کراچی اور لاہور میں اے آئی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے لیے خصوصی تربیتی مراکز قائم کرنے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔ اس اقدام کا مقصد نوجوانوں کے لیے جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم تک رسائی بڑھانا اور انہیں ڈیجیٹل معیشت کی ضروریات کے مطابق مہارتیں سکھانا ہے۔
بنو قابل پاکستان کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شاہد اقبال کے مطابق، اس اقدام کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کو اے آئی کے صارفین سے ایسے ڈیولپرز میں تبدیل کرنا ہے جو مقامی اور عالمی سطح کے چیلنجز کا حل پیش کر سکیں۔
علی بابا کلاؤڈ کے مشرق وسطیٰ، ترکیہ اور افریقہ کے سربراہ برائے مارکیٹنگ، ییلان ژوانگ نے بھی نوجوان اختراع کاروں کو بین الاقوامی ٹیکنالوجی، مہارت اور پلیٹ فارمز تک رسائی فراہم کرنے کی اہمیت پر زور دیا ہے، تاکہ وہ اپنے خیالات کو قابلِ عمل منصوبوں میں تبدیل کر سکیں۔
ہیکسالائز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سعد شاہ کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو اے آئی کی مہارتوں سے آراستہ کرنا پاکستان کے ٹیکنالوجی ایکوسسٹم کو مضبوط بنانے اور آئی ٹی برآمدات میں اضافے میں مدد دے سکتا ہے۔ انہوں نے کم عمری ہی سے اے آئی کی تعلیم متعارف کرانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے، تاکہ طلبہ بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتیں پروان چڑھا سکیں۔
ہیکاتھون میں زراعت، صحت، مالیات اور زبانوں سمیت مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کے عملی استعمال پر توجہ دی جائے گی۔ ان شعبوں سے متعلق منصوبوں کی حوصلہ افزائی کے ذریعے منتظمین نوجوانوں کی تکنیکی صلاحیتوں کو کمیونٹیز، کاروباری اداروں اور عوامی خدمات کو درپیش مسائل کے حل سے جوڑنا چاہتے ہیں۔
16 ہزار سے زائد درخواستوں اور علاقائی مراحل میں 430 سے زیادہ شارٹ لسٹڈ ٹیموں کے بعد اب تمام نظریں نیشنل گرینڈ فائنل پر ہیں، جہاں منتخب ٹیمیں اپنے اے آئی سلوشنز پیش کریں گی اور ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کریں گی۔
یہ ایونٹ نوجوانوں کو مینٹورز، ٹیکنالوجی ماہرین اور ممکنہ شراکت داروں سے رابطے کا موقع بھی فراہم کرے گا، جبکہ پاکستان میں ابھرتے ہوئے اے آئی ٹیلنٹ کی صلاحیتوں کو سامنے لانے میں مدد دے گا۔
پاکستان میں ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی کے تناظر میں اس ہیکاتھون کا مقصد ایسے نوجوان ڈویلپرز اور محققین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جو اے آئی اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ کے ذریعے مقامی ضروریات کے مطابق حل تیار کر سکیں اور انہیں وسیع پیمانے پر قابلِ استعمال بنا سکیں۔







