اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق، جولائی سے ستمبر 2026 کے دوران، چین سے پاکستان کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 197.5 ملین ڈالر رہی۔ جو کہ گزشتہ سال 121.3 ملین ڈالر تھی۔ یعنی تقریباً 76 ملین ڈالر کا اضافہ۔ تاہم، یہ براہِ راست سرمایہ کاری ہے، چین کی جانب سے دیے گئے قرضوں، تجارتی لین دین اور تمام منصوبوں کی مجموعی مالیت نہیں۔
پاکستان اور چین کے معاشی تعلقات کی بنیاد کئی دہائیوں پرانی ہے۔ لیکن 2013 میں چین پاکستان اقتصادی راہداری، یعنی سی پیک، نے اس تعلق کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا، جس میں بجلی، سڑکوں اور بندرگاہوں کے منصوبے نمایاں تھے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق، سی پیک کے پہلے مرحلے میں تقریباً 25.4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی۔ اس کے منصوبوں سے قومی گرڈ میں تقریباً 8,000 میگاواٹ بجلی شامل ہوئی، جبکہ سرکاری اندازے کے مطابق ایک لاکھ 92 ہزار سے زیادہ ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ لاہور کی اورنج لائن ٹرین اور گوادر میں پاک چین دوستی اسپتال جیسے منصوبے بھی اس تعاون کی مثالیں ہیں۔ان منصوبوں نے پاکستان کے توانائی کے شعبے اور بنیادی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
لیکن پاکستان اور چین کے معاشی تعلقات کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ مالی سال 2024–25 میں پاکستان نے چین کو تقریباً 2.38 ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں، جبکہ چین سے درآمدات 16.3 ارب ڈالر رہیں۔ یعنی پاکستان کی درآمدات اس کی برآمدات سے تقریباً سات گنا زیادہ تھیں۔ اس میں مشینری اور صنعتی سامان بھی شامل ہے، جو پاکستان کی پیداوار بڑھانے میں مدد دے سکتا ہے۔ تاہم، اگر پاکستان اپنی مصنوعات کی تیاری اور برآمدات میں اضافہ نہ کر سکا تو دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی فرق برقرار رہے گا اور سرمایہ کاری کے طویل مدتی فوائد محدود رہیں گے۔
اب تعاون کے نئے شعبے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ ستمبر 2026 میں چین میں ہونے والے پاکستان انویسٹمنٹ اینڈ بزنس فورم میں الیکٹرک گاڑیوں، بیٹریوں، تعمیراتی سامان، فرنیچر اور زراعت سمیت مختلف شعبوں میں پانچ باہمی معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
لیکن اصل کامیابی تب ہوگی جب یہ منصوبے عملی شکل اختیار کریں، سرمایہ نئی صنعتوں، بہتر روزگار، اور بڑھتی ہوئی برآمدات میں تبدیل ہو۔ کیونکہ آخرکار سوال یہ نہیں کہ پاکستان میں کتنے ڈالر آئے، بلکہ یہ ہے کہ ان سے پاکستانی معیشت اور عام پاکستانی کی زندگی میں کیا بدلا۔







