عرب نیوز کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے شرکت کی، جو ایران کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تین دستخط کنندہ ممالک ہیں۔ اگست میں طے پانے والے اس معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے سعودی عرب پر حملوں میں شدت پیدا کر دی ہے اور خطے کے ممالک ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان بڑے پیمانے پر جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خطرے کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خلیجی تنصیبات پر حملوں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی متاثر ہونے سے تنازع کے معاشی اثرات بھی بڑھ گئے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے کے مطابق شرکا نے خطے میں امن و سلامتی اور چاروں ممالک کے درمیان تعاون مضبوط بنانے کے لیے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔ تاہم اعلامیے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ لڑائی ختم کرنے کے لیے کوئی مشترکہ حکمت عملی طے پائی ہے یا نہیں۔ آئندہ اجلاس کی تاریخ کا بھی اعلان نہیں کیا گیا۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے اجلاس کی میزبانی کی۔ اس میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن نے شرکت کی۔
تینوں ممالک کے وفود نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق صدر پزشکیان نے خطے میں اتحاد اور یکجہتی مضبوط بنانے کے اقدامات کی حمایت کی۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ اس دورے میں شریک تھے۔
ارنا کے مطابق مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اسلامی ممالک کے اتحاد اور یکجہتی کو مضبوط بنانے والے ہر اقدام کی حمایت کرتا ہے۔
اجلاس سے قبل ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری کنی نے کہا تھا کہ یہ ملاقات علاقائی سلامتی کے ایک نئے نظام کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ ایرانی سرکاری ٹیلی وژن سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ تہران میں ہونے والا چار ملکی اجلاس مقامی اور علاقائی سلامتی کا فریم ورک تشکیل دینے کی جانب ایک مؤثر قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
یہ سفارتی کوشش حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں میں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ رواں ماہ ریاض کے مرکزی ہوائی اڈے پر ایک حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے اور ہوائی اڈے کی سرگرمیاں معطل ہو گئی تھیں۔ اس حملے کی ذمہ داری حوثیوں نے قبول کی تھی۔ سعودی عرب کے مطابق ہوائی اڈے کے دو ٹرمینلز اتوار کو دوبارہ کھول دیے گئے، تاہم حوثیوں نے مزید حملوں کی دھمکی دی ہے۔
وسیع تر تنازع کا آغاز فروری میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے ہوا تھا۔ اس کے بعد پاکستان اور قطر نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ثالثی کی کوششیں کیں۔
جون میں طے پانے والے ایک عبوری معاہدے کا مقصد آبنائے ہرمز میں جہاز رانی بحال کرنا اور وسیع تر مذاکرات شروع کرنا تھا، تاہم بعد میں یہ معاہدہ برقرار نہ رہ سکا۔ گزشتہ ہفتے پاکستان میں ایران کے سفیر نے کہا تھا کہ تہران اب بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔







