میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم عوام سے رابطہ کریں گے، پارلیمنٹ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں گے، ہم ایک لمحے کے لیے بھی جھکنے کو تیار نہیں، مجھے لگتا تھا کہ حکومت خیبرپختونخوا سے متعلق فیصلے کر چکی ہے۔

میرے ساتھیوں نے پھر بھی وزیراعظم کے پاس جانے کی تجویز دی، وزیراعظم کا فون آیا تو ملاقات کے لیے وزیراعظم ہاؤس گیا، حکومت نے واضح کہا کہ پہلے لانگ مارچ ختم کیا جائے، پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔

عمران خان کو اسپتال لے جانے سے متعلق عدالتی فیصلے پر عملدرآمد پی ٹی آئی کا مطالبہ تھا، حکومت اور پی ٹی آئی دونوں پہلے آپ، پہلے آپ کی بات کر رہے تھے، دونوں فریقوں سے کہا کہ مجھے ثالثی اور فیصلہ کرنے کا اختیار دیا جائے۔

میں نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو بھی اعتماد میں لینے کی تجویز دی، کانفرنس کال پر سہیل آفریدی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سمیت دیگر رہنماؤں سے بات ہوئی، پی ٹی آئی قیادت سے لانگ مارچ ختم کرنے کے معاملے پر بات کی، سہیل آفریدی نے موقف رکھا کو مطالبات تسلیم کر لیے جائیں تو لانگ مارچ ختم کر دیں گے۔

آج صبح وزیراعظم ہاؤس جا کر بتایا کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرنے کے لیے تیار ہے، وزیراعظم سے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور علاج کی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی کابینہ کا اجلاس شام کو بھی ہو سکتا ہے۔ میں پشاور جا کر سہیل آفریدی سمیت دیگر رہنماؤں سے بات کرنا چاہتا تھا، پی ٹی آئی اور مسلم لیگ ن کے دو، دو رہنماؤں کے ذریعے مذاکرات آگے بڑھانا چاہتا تھا۔

چاہتا تھا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان مذاکرات میری نگرانی میں ہوں، وفاقی کابینہ کے اجلاس سے قبل نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا فون آیا۔ اسحاق ڈار نے بتایا کہ حکومت دہشت گردی کی صورتحال کے باعث ایمرجنسی لگانا چاہتی ہے۔

اسحاق ڈار سے کہا کہ بلوچستان میں حالات خیبرپختونخوا سے بھی زیادہ خراب ہیں، اگر دہشت گردی ایمرجنسی کی وجہ ہے تو بلوچستان میں گورنر راج کیوں نہیں لگایا گیا؟

اسحاق ڈار سے نائن الیون کے بعد امریکی جنگ سے متعلق اپنے مؤقف پر بھی بات کی۔