سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ عوام کے لیے کھڑے ہونے کو دہشت گردی کی حمایت قرار دینا شرمناک بیانیہ ہے۔ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنا ان کی ذمہ داری ہے اور اس معاملے پر پی ٹی آئی میں کوئی اختلاف نہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی مذاکرات کے پہلے روز ہی دہشت گردی کے معاملے پر اختلاف سامنے آگیا تھا۔ عمران خان کے علاج اور ان سے ملاقات کا مطالبہ کرنے پر دہشت گردوں سے رابطوں کے الزامات لگائے گئے، جو مکمل جھوٹ ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل کیوں نہیں کیا گیا؟

پی ٹی آئی رہنما کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کیے اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو بھی اپنی استطاعت کے مطابق فنڈز دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت پر دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنے کا الزام غلط ہے۔

افغان مہاجرین کے معاملے پر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی نے انسانیت کے تقاضوں کو مدنظر رکھنے اور افغان مہاجرین کے ساتھ انسانی وقار کے مطابق سلوک کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے 11 اکتوبر کو پاکستان کی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1973 میں بلوچستان کی منتخب حکومت ختم کی گئی تھی۔ اگر بلوچستان کی تاریخ سے سبق نہ سیکھا گیا تو خیبر پختونخوا میں بھی حالات خراب ہوسکتے ہیں۔ ریاست اور عوام کے درمیان فاصلے بڑھنے کے نتائج سنگین ہوسکتے ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ مکمل طور پر منظم اور پُرامن تھا۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی عوام کے حقوق، مہنگائی کے خاتمے، غریبوں کی جان و روزگار اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے نکلی ہے۔ ان کے بقول غیر منتخب اشرافیہ کی حکمرانی عوام اور غریب دشمن ہے۔

انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ملک بھر میں مقامی قیادت کے ساتھ مل کر پُرامن احتجاج کریں اور گھروں کی دہلیز یا گلیوں میں نکل کر اپنے تحفظات کا اظہار کریں۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ پارٹی تشدد کا راستہ نہیں اپنائے گی اور اپنے بچوں اور شہریوں کو محفوظ رکھنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا جائے گا اور پی ٹی آئی عدالتوں، اسمبلیوں اور عوامی سطح پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی پاکستانی قوم کے ساتھ کھڑی ہے اور اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔