اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دوسری کمیٹی میں پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے سالانہ 300 ارب ڈالر فراہم کرنے کے وعدے کو عملی شکل دینے کے لیے واضح لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ یہ وہی 300 ارب ڈالر کا ہدف ہے جس پر ممالک نے COP29 میں 2035 تک اتفاق کیا تھا۔ پاکستان نے زور دیا کہ اس رقم میں گرانٹس اور آسان شرائط پر قرض شامل ہوں، جب کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے اور نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاونت میں نمایاں اضافہ کیا جائے۔
پاکستان نے موسمیاتی تبدیلی کے معاملے کو پانی کے مسئلے سے بھی جوڑتے ہوئے کہا کہ 2026 اور 2028 میں ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آبی کانفرنسوں میں مشترکہ آبی وسائل پر تعاون کو ترجیح دی جائے اور موجودہ بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کا احترام کیا جائے۔ جنوبی ایشیا میں یہ معاملہ خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ایک ہی دریائی نظام کئی ممالک کی ضروریات سے جڑا ہوا ہے، جبکہ موسمیاتی تبدیلی پانی کے وسائل پر دباؤ مزید بڑھا رہی ہے۔
پاکستان کی اصل تشویش اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ اسلام آباد کے مطابق ترقی پذیر ممالک کو پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) حاصل کرنے کے لیے ہر سال تقریباً 4 ٹریلین ڈالر کے مالی خلا کا سامنا ہے۔ ان اہداف میں 2030 تک غربت میں کمی، تعلیم، صحت، صاف پانی کی فراہمی اور پائیدار ترقی جیسے اہم شعبے شامل ہیں، لیکن ان کے حصول کے لیے درکار مالی وسائل پورے نہیں ہو رہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ اس مالی خلا کو پُر کرنے کے لیے عالمی نظام میں اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کو اپنے وسائل بہتر انداز میں جمع کرنے میں مدد دی جائے، عالمی ٹیکس نظام کو زیادہ منصفانہ بنایا جائے اور ترقی یافتہ ممالک اپنی قومی آمدن کے 0.7 فیصد کے برابر ترقیاتی امداد فراہم کرنے کا وعدہ پورا کریں۔
پاکستان نے عالمی ترقیاتی بینکوں پر بھی زور دیا کہ وہ ترقی پذیر ممالک کو زیادہ مالی معاونت فراہم کریں اور ان کے لیے قرض حاصل کرنے کی لاگت کم کی جائے، تاکہ یہ ممالک ترقیاتی منصوبوں کو جاری رکھ سکیں اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا بہتر طور پر مقابلہ کر سکیں۔
یوں پاکستان کا مطالبہ محض موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے مالی امداد تک محدود نہیں، بلکہ اس کا بنیادی نکتہ عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات بھی ہیں۔ ایک طرف موسمیاتی آفات کا خطرہ بڑھ رہا ہے، دوسری طرف ترقی پذیر ممالک کو ہر سال کھربوں ڈالر کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ مہنگے قرض ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری پاکستان کے ان مطالبات کو محض ایک اور وعدہ سمجھتی ہے یا ایسے عملی اقدامات بھی کرتی ہے جن سے موسمیاتی نقصانات کا سامنا کرنے والے ممالک کو مالی سہارا، آبی وسائل کا تحفظ اور ترقی کے حقیقی مواقع میسر آسکیں۔







