پشاور میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات اور وزیراعلیٰ ہاؤس میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کے اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا کہ صوبے میں وفاقی حکومت کی مداخلت سے صوبائی حکومت کی رٹ کمزور ہوئی ہے۔ ان کے بقول خیبر پختونخوا میں عملاً گورنر راج نافذ ہے، صرف اس کا باضابطہ اعلان کرنا باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے پر تمام فریق متفق ہیں، تاہم اختلاف صرف اس مقصد کے حصول کے طریقۂ کار پر ہے، جسے بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی دہشت گردی کا حل نہیں۔ ایسے اقدامات سے صوبے اور وفاق دونوں کو نقصان پہنچے گا اور حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر صوبے کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے غیر معمولی اقدامات پر غور کیا جا رہا ہے تو وفاقی یا صوبائی اپیکس کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے اور تمام متعلقہ فریقوں کی مشاورت سے مسئلے کا حل نکالا جائے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی ہونی چاہیے اور تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لیا جانا چاہیے تاکہ عوام بھی ان اقدامات کی حمایت کریں۔
انہوں نے موجودہ سیاسی صورتِ حال کو تمام جماعتوں کے لیے لمحۂ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک کے کسی دوسرے صوبے میں اس نوعیت کی مداخلت نہیں کی جا رہی۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایسا اس لیے ہو رہا ہے کہ وہاں پی ٹی آئی کا مینڈیٹ ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ملک کی سیاسی قیادت کو ہٹ دھرمی کے بجائے سیاسی بصیرت سے کام لینا چاہیے اور ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جن سے سیاسی تناؤ میں اضافہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا مزید تجربات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت کے تین وزرا سمیت صوبائی اسمبلی کے 9 ارکان اور قومی اسمبلی کے 8 ارکان کو اٹھایا گیا ہے یا وہ لاپتا ہیں۔
انہوں نے عمران خان کی بہنوں اور کزن کے جیل میں ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ عمران خان سے گزشتہ ایک سال سے بند ملاقاتیں فوری طور پر بحال کی جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملاقاتوں کی بحالی سے صورتِ حال میں بہتری آ سکتی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ چھ مطالبات کے لیے تھا اور یہ تمام مطالبات آئینی و قانونی ہیں۔
دوسری جانب پشاور میں وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کا اجلاس بھی ہوا، جس میں ملک کی سیاسی صورتِ حال اور لانگ مارچ سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔







