سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں مریم نواز نے دونوں ویڈیوز شیئر کیں، جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک ویڈیو میں ملزم پمپ ورکر کو تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے، جب کہ دوسری ویڈیو میں ورکر پولیس کے سامنے ملزم کو دو تھپڑ مارتا دکھائی دے رہا ہے۔
ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ یہ اُن لوگوں کے لیے واضح پیغام ہے جو سمجھتے ہیں کہ دولت اور طاقت کے بل بوتے پر وہ قانون سے بالاتر ہو سکتے ہیں اور جو چاہیں کرکے بچ نکلیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعلیٰ پنجاب وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہیں، چاہے ان پر ظلم کرنے والا کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ کسی کی دولت، اثر و رسوخ یا سیاسی تعلقات اسے قانون کے کٹہرے میں جواب دہ ہونے سے نہیں بچا سکتے۔
مریم نواز کا کہنا تھا کہ انصاف صرف امیر اور طاقتور لوگوں کا حق نہیں بلکہ ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور کسی مظلوم کو محض اس لیے تنہا نہیں چھوڑا جاسکتا کہ اس کے خلاف کھڑا ہونے والا شخص دولت اور طاقت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کا عزم واضح ہے کہ مظلوم کو انصاف دلانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور کسی کو بھی اپنے پیسے یا طاقت کے بل بوتے پر قانون سے بچ نکلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد رہے کہ لاہور کے علاقے جوبلی ٹاؤن میں سگریٹ نوشی سے منع کرنے پر پراڈو سوار شخص نے پیٹرول پمپ کے ایک ورکر کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔ ورکر نے حفاظتی ایس او پیز کے تحت ممکنہ حادثے سے بچنے کے لیے ملزم کو سگریٹ نوشی سے منع کیا تھا، جس پر ملزم نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین دھمکیاں دینے کے بعد فرار ہوگیا۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر چوہنگ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گاڑی تلاش کرلی۔ دورانِ تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے پراڈو کرائے پر حاصل کر رکھی تھی۔ کرایہ داری کی رسید کے ذریعے ملزم کی شناخت ادریس بھٹی کے نام سے ہوئی۔
پولیس کے مطابق ملزم نے گرفتاری کے دوران مزاحمت کی کوشش بھی کی، جب کہ اس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا۔ ملزم کے خلاف مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے کہا کہ قانون کی پاسداری کرنے والے شہری پر تشدد ناقابل قبول ہے۔ طاقت، دولت یا بڑی گاڑی کے زعم میں قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کسی کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ محنت کش کی عزتِ نفس مجروح کرے۔ پولیس ہر مظلوم کا سہارا اور قانون کی عملداری کی محافظ ہے۔ خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے والے سن لیں کہ لاہور میں قانون کی حکمرانی چلے گی۔







