انہوں نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت شہر کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی ہے اور بلدیاتی نظام کو مؤثر انداز میں کام کرنے کے لیے مطلوبہ اختیارات حاصل نہیں۔

شاہراہِ قائدین پر پیٹرولیم لیوی اور بھاری ٹیکسوں کے خلاف جماعت اسلامی کراچی کے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کو عوام پر معاشی بوجھ ڈالنے کے بجائے انہیں ریلیف دینا چاہیے۔ پیٹرول، بجلی اور گیس کے بڑھتے اخراجات نے عام شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کراچی میں پانی کی قلت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو مہنگے داموں ٹینکر خریدنا پڑتے ہیں، جب کہ بجلی، گیس، بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض علاقوں میں پانی کے ٹینکر کی قیمت پانچ ہزار سے بارہ ہزار روپے تک پہنچ جاتی ہے، جس سے عام شہریوں کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے پاس صفائی، پانی اور سیوریج جیسے مسائل حل کرنے کے لیے مؤثر اختیارات ہونے چاہییں۔ کراچی میں جماعت اسلامی کا میئر منتخب ہوتا تو شہر کی حالت مختلف ہوتی۔

انہوں نے پیپلز پارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے تعلقات پر بھی تنقید کی اور الزام لگایا کہ شہر میں بدانتظامی اور مبینہ بدعنوانی کا سلسلہ جاری ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے انتخابی نتائج پر اعتراضات دہراتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کے امیدواروں کو بعض حلقوں میں مبینہ دھاندلی کے ذریعے کامیابی سے محروم کیا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ کراچی کے بعض انتخابی حلقوں میں فارم 45 کے مطابق جماعت اسلامی کے امیدوار کامیاب تھے، تاہم نتائج میں انہیں شکست خوردہ قرار دیا گیا۔ یہ الزامات جماعت اسلامی کے مؤقف کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے تعلیم کے شعبے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ معیاری تعلیم ہر بچے کا آئینی حق ہے، خیرات نہیں۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ پانچ سے پندرہ سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور معیاری تعلیم فراہم کرے۔

حافظ نعیم الرحمان نے سرکاری اسکولوں کو بہتر بنانے، انہیں ماڈل اسکولوں میں تبدیل کرنے اور نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

جماعت اسلامی کے سربراہ نے اپنے خطاب میں جماعت کے مفت آئی ٹی تربیتی پروگرام ’بنو قابل‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پروگرام کے ذریعے نوجوانوں کو مفت آئی ٹی کورسز فراہم کیے جا رہے ہیں اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے مطابق کورسز کو بھی بہتر بنایا جا رہا ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنے محلوں میں کمیٹیاں تشکیل دیں، پانی، صفائی اور تعلیم جیسے مسائل کے حل کے لیے اجتماعی آواز اٹھائیں اور بلدیاتی اداروں سے جواب طلب کریں۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی اور شہریوں کو آئندہ انتخابات میں اپنے ووٹ کا مؤثر استعمال کرنا چاہیے۔