جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے موقع پر پتنگ بازی صرف مقررہ اور محفوظ ڈور کے استعمال سے مشروط ہوگی، جب کہ دھاتی تار، نائلون ڈور، تندی اور تیز مانجھے کے استعمال پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگ سازی کے سامان کی تیاری 5 ستمبر 2026 سے 14 مارچ 2027 تک کی جا سکے گی، جب کہ پتنگ بازی کے سامان کی خرید و فروخت یکم فروری 2027 سے 14 مارچ 2027 تک مجاز ہوگی۔
عام شہریوں کو پتنگ بازی کا سامان 10 فروری سے 14 مارچ 2027 تک فروخت کرنے کی اجازت ہوگی، تاہم پتنگ بازی کا سامان تیار کرنے، ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے کے لیے سرکاری رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی ہے۔
غیر رجسٹرڈ افراد کو پتنگ بازی کا سامان تیار یا فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ بسنت کے دوران صرف پنجاب حکومت کے مقرر کردہ معیار کے مطابق پتنگیں اور ڈور استعمال کی جا سکیں گی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پتنگ کی ڈور پر صرف مقررہ اجزا، مایا، شیشے کے پاؤڈر اور چاول کے آٹے کے استعمال کی اجازت ہوگی۔ پتنگ بازی کے سامان کے تمام رجسٹرڈ کاروباری افراد کو ریکارڈ برقرار رکھنا ہوگا، جب کہ رجسٹرڈ دکانداروں کے لیے کاروباری مقامات پر سرکاری رجسٹریشن سرٹیفکیٹ نمایاں کرنا بھی لازمی قرار دیا گیا ہے۔
لاہور میں موٹر سائیکل سواروں کو حفاظتی راڈز سمیت مقررہ حفاظتی اقدامات پر عمل کرنا ہوگا۔ بسنت کے دوران قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ حکام کارروائی کریں گے۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر لاہور کیپٹن (ر) محمد علی اعجاز نے کائٹ فلائنگ ریگولیشنز کے تحت بسنت 2027 کے لیے مشروط اجازت نامہ جاری کر دیا ہے۔
اجازت نامے کے مطابق علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے اطراف پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد ہوگی، جب کہ جہازوں کی لینڈنگ اور ٹیک آف روٹس کے علاقوں کو ممنوعہ زون قرار دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نادرآباد، گلشن علی کالونی اور نشاط کالونی میں بھی پتنگ بازی پر سخت پابندی ہوگی، جب کہ بھٹہ چوک کے علاقے میں بھی پتنگ بازی ممنوع قرار دی گئی ہے۔
اس کے علاوہ ڈی ایچ اے لاہور کے بلاکس R، S، P اور Q کو پتنگ بازی کے لیے ممنوعہ زون قرار دیا گیا ہے۔
الفیصل ٹاؤن، جوڑے پل، تاجپورہ اور اس کے گردونواح کے تمام علاقوں میں بھی پتنگ بازی پر پابندی ہوگی، جبکہ کینال بینک روڈ تاجپورہ کے ملحقہ علاقوں کو بھی پتنگ بازی کے لیے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔







