جمعے کو فلوریڈا روانگی سے قبل وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ جنگ بہت جلد ختم کرسکتا ہے، تاہم واشنگٹن کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ جنگ فوری طور پر ختم کی جائے یا اسے بتدریج کمزور پڑنے دیا جائے۔

آبنائے ہرمز کی صورت حال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اس راستے سے تیل کی ترسیل جاری ہے اور امریکا کو وہ سب کچھ مل رہا ہے جو وہ چاہتا ہے۔

امریکی صدر نے یوکرین میں اسٹارلنک مواصلاتی نظام تک رسائی اور اس کی رفتار پر پابندیوں کے معاملے پر کہا کہ اگر کوئی مسئلہ برقرار ہے تو وہ اسے حل کروادیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک سے ابھی بات نہیں ہوئی، تاہم ضرورت پڑنے پر وہ ان سے رابطہ کریں گے۔

صدر ٹرمپ نے ایلون مسک کو منصف مزاج شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک غیر معمولی صورت حال ہے، جس میں حکومت ایک نجی کمپنی سے معاملات پر بات کر رہی ہے۔

یوکرینی حکام نے جمعے کو بتایا کہ ملک میں اسٹارلنک مواصلاتی نظام کی رفتار پر عائد پابندیاں اب بھی برقرار ہیں۔ حکام کا یہ بیان صدر ٹرمپ کے اس سابقہ دعوے سے متضاد ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسٹارلنک سروس مکمل طور پر بحال کردی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق یوکرین میں اسٹارلنک سروس کی رفتار پر پابندیاں 13 اکتوبر سے نافذ ہیں، جب کہ اس دوران کیف اور واشنگٹن کے تعلقات میں بھی کشیدگی بڑھی ہے۔

دوسری جانب کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ کینیڈا امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے بھرپور کوشش کررہا ہے، تاہم ان کے بقول اس معاملے میں تمام تر برتری امریکا کے پاس ہے۔

کینیڈین حکومت نے صدر ٹرمپ کے بیان پر تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

امریکا اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازع اگست میں مذاکرات ناکام ہونے کے بعد سے جاری ہے۔ مذاکرات میں تعطل کے نتیجے میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر نئے محصولات عائد کیے اور جوابی اقدامات کیے۔

اس تجارتی کشیدگی نے دونوں دیرینہ اتحادیوں کے درمیان اختلافات کو مزید بڑھا دیا ہے، جب کہ دونوں ممالک مذاکرات کی ناکامی کا ذمہ دار ایک دوسرے کو قرار دیتے رہے ہیں۔

تجارتی تنازع کے باعث کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے بھی اپنے ملک کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار امریکا پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس صورت حال نے امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کے درمیان تجارتی معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے بھی سوالات کھڑے کردیے ہیں۔