واقعے کا مقدمہ متاثرہ لڑکی کی مدعیت میں تھانہ کاہنہ میں سی سی ڈی اہلکار محمد شبیر کے خلاف درج کر لیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق کوٹ لکھپت کی رہائشی لڑکی یکم اکتوبر کو کاہنہ بازار گئی تھی، جہاں اس کا موبائل فون پرس سے گم ہوگیا۔ موبائل کی گمشدگی کی اطلاع دینے کے لیے وہ تھانہ کاہنہ پہنچی، جہاں اس کی ملاقات محمد شبیر نامی سی سی ڈی اہلکار سے ہوئی۔
مقدمے کے متن کے مطابق محمد شبیر نے لڑکی سے موبائل نمبر لیا اور بعد ازاں فون کرکے موبائل ٹریس ہونے کا بہانہ بنا کر اسے بلایا۔ متاثرہ لڑکی کے مطابق موبائل ٹریس ہونے کی اطلاع پر وہ مقررہ مقام پر پہنچی تو سی سی ڈی اہلکار اسے ایک خاتون کے گھر لے گیا۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزم نے مبینہ طور پر اسلحہ دکھا کر لڑکی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس کی نازیبا ویڈیو بھی ریکارڈ کرلی۔
متاثرہ لڑکی کے مطابق محمد شبیر نے 10 اکتوبر کو دوبارہ اسے خاتون کے گھر بلایا اور مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں متاثرہ لڑکی ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی کچہری میں پیش ہوئی، جہاں اس کی درخواست پر داد رسی کی گئی۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ درج کرکے مزید قانونی کارروائی شروع کر دی ہے۔







