میر رضا قتل کیس میں نئے تفتیشی افسر سراج لاشاری عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران مدعی مقدمہ میر حسین بھی اپنے وکیل جبران ناصر کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ کیس کی تحقیقات مختلف پہلوؤں سے جاری ہیں اور اب تک 35 سے زائد افراد سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے، میر رضا سے رابطے میں رہنے والے افراد کو کال ریکارڈ کی بنیاد پر شاملِ تفتیش کیا جا رہا ہے۔

تفتیشی افسر سراج لاشاری نے عدالت کو بتایا کہ انہیں 13 اگست کو کیس کی تفتیش سونپی گئی، جس کے بعد تحقیقات کو مزید آگے بڑھایا گیا ہے، وقوعے کے روز میر رضا سے ٹیلی فونک رابطے میں رہنے والے افراد کو خاص طور پر طلب کرکے ان سے معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔

عدالت میں مقتول میر رضا کے بزنس پارٹنر محمد احمد کا بیان بھی ریکارڈ کیا گیا۔ محمد احمد نے عدالت کو بتایا کہ پولیس کی جانب سے جب بھی انہیں طلب کیا گیا، وہ تفتیش میں پیش ہوئے، تاہم بعض مواقع پر انہیں کئی گھنٹوں تک پولیس کے پاس بٹھایا گیا۔

محمد احمد نے عدالت کو بتایا کہ انہیں 13 اگست کو بھی پولیس نے طلب کیا تھا اور وہ تفتیش کے لیے پیش ہوئے۔

اس موقع پر عدالت نے محمد احمد کو ہدایت کی کہ پولیس کی جانب سے طلب کیے جانے پر انہیں تحقیقات میں تعاون کرنا ہوگا۔ عدالت نے واضح کیا کہ عبوری ضمانت کے دوران وہ اپنا رہائشی مقام تبدیل نہ کریں اور پولیس کو اطلاع دیے بغیر شہر سے باہر نہ جائیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے کیس کی تفتیش میں تاخیر پر تشویش کا اظہار بھی کیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ مقتول کے اہلخانہ اور دیگر متعلقہ افراد کی تشویش کو مدنظر رکھتے ہوئے تحقیقات کو سنجیدگی سے آگے بڑھایا جائے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایک شخص کا قتل ہوا ہے، اس معاملے کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو حقائق ہیں انہیں سامنے لایا جائے تاکہ اصل صورتحال واضح ہوسکے۔

تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ میر رضا کے قتل کے حوالے سے اب تک کسی شخص کو باقاعدہ ملزم قرار نہیں دیا گیا۔ ان کے مطابق پولیس مختلف افراد سے پوچھ گچھ کررہی ہے اور تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔

تفتیشی حکام کے مطابق میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کمیٹی میں مزید دو ارکان کو شامل کرلیا گیا ہے، جس کے بعد تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان کی تعداد 9 ہوگئی ہے۔ نئے شامل کیے جانے والے ارکان میں شاہ لطیف تھانے کے ایس ایچ او اور ایک ڈی ایس پی شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے میر رضا کا موبائل فون اور اسمارٹ واچ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے واپس حاصل کرلی ہے۔ دونوں اہم ڈیجیٹل آلات کو مزید فرانزک جانچ کے لیے لاہور کی فرانزک لیبارٹری بھجوایا جائے گا۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ موبائل فون اور اسمارٹ واچ سے حاصل ہونے والا ڈیٹا تحقیقات میں اہم پیش رفت کا باعث بن سکتا ہے۔ پولیس ان آلات میں موجود رابطوں، کال ریکارڈ، ڈیجیٹل سرگرمیوں اور دیگر ممکنہ شواہد کا فرانزک جائزہ لے گی۔

دوسری جانب مقتول میر رضا کے اہلخانہ کی جانب سے این سی سی آئی اے سے فرانزک کرائے جانے پر تحفظات کا اظہار بھی کیا گیا تھا، جس کے بعد موبائل فون اور اسمارٹ واچ کو مزید فرانزک تجزیے کے لیے لاہور فرانزک لیب بھجوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تفتیشی ٹیم کے مطابق جائے وقوعہ سے بھی مزید شواہد حاصل ہوئے ہیں جنہیں تحقیقات کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ پولیس مختلف شواہد، بیانات اور ڈیجیٹل ریکارڈ کو باہم ملا کر واقعے کی کڑیاں جوڑنے کی کوشش کررہی ہے۔

سراج لاشاری نے عدالت سے استدعا کی کہ تحقیقات مکمل کرنے کے لیے مزید مہلت دی جائے، جس پر عدالت نے تفتیش مکمل کرنے کے لیے 24 اگست تک وقت دے دیا۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت تک تحقیقات کو مکمل کرکے پیش رفت رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔

عدالت نے محمد احمد کی عبوری ضمانت میں بھی 24 اگست تک توسیع کردی اور انہیں پولیس کی تحقیقات میں مکمل تعاون جاری رکھنے کی ہدایت کی۔

یوں میر رضا قتل کیس میں ایک جانب تفتیشی کمیٹی کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے، جبکہ دوسری جانب موبائل فون، اسمارٹ واچ، کال ریکارڈ اور جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کی فرانزک جانچ کے ذریعے تحقیقات کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ فی الحال کسی شخص کو ملزم قرار نہیں دیا گیا اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی کیس میں مزید پیش رفت سامنے آئے گی۔