مجسٹریٹ نے اہلِ خانہ کو آگاہ کیا کہ اگر تفتیشی افسر تحریری درخواست دے گا تو عدالت نئے میڈیکل بورڈ کی منظوری یا سابقہ بورڈ کی بحالی سے متعلق فیصلہ کرے گی۔ تفتیشی افسر نے اس سلسلے میں مجسٹریٹ کے روبرو تحریری درخواست بھی جمع کرا دی ہے۔
قبر کشائی کے موقع پر دونوں میڈیکل بورڈز کے ارکان موجود تھے، تاہم اہلِ خانہ اور ان کے وکیل نے نئے بورڈ کے خلاف درخواست جمع کراتے ہوئے اس پر عدم اعتماد کا اظہار کیا۔
میر رضا کے والد میر حسن نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ صرف عدالت کی جانب سے تشکیل دیے گئے آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کو تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ رات کی تاریکی میں میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا، جسے وہ قبول نہیں کرتے۔
انہوں نے کہا کہ اگر سابقہ آٹھ رکنی بورڈ آئے گا تو وہ قبر کشائی کی اجازت دے دیں گے، لیکن نئے پانچ رکنی بورڈ کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ان کے مطابق ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین خامیاں موجود ہیں اور پولیس مسلسل متضاد مؤقف اختیار کر رہی ہے۔
میر حسن نے الزام لگایا کہ کسی کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، اسی لیے راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد آج دوبارہ قبر کشائی ہونا تھی، تاہم اہلِ خانہ کے اعتراضات کے باعث کارروائی روک دی گئی۔ اس موقع پر پولیس کی جانب سے سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے تھے۔
اہلِ خانہ کے مطابق میر رضا کی شرٹ پر گولی کا نشان اور پھٹے ہوئے دھاگے واضح ہیں، جب کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج ہے کہ گولی سینے سے داخل ہو کر کمر سے باہر نکلی۔ ان کا دعویٰ ہے کہ تصاویر میں پاؤں پر زخموں اور پسلیوں پر تشدد کے نشانات بھی واضح دکھائی دیتے ہیں۔
میر رضا کے وکیل نے کیا کہا؟
میر رضا کے وکیل جبران ناصر نے پولیس سرجن کو ہنگامی خط لکھ کر نئے میڈیکل بورڈ پر اعتراضات اٹھائے اور مؤقف اختیار کیا کہ قانونی ورثا نئے بورڈ سے قبر کشائی پر رضامند نہیں ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ عدالت کے حکم کے مطابق تشکیل دیا گیا اصل آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ ہی برقرار رکھا جائے، جب کہ ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد کی جانب سے جاری نیا حکم غیر قانونی ہے۔
جبران ناصر کے مطابق نیا بورڈ عدالتی حکم اور سندھ میڈیکو لیگل ایکٹ کے منافی ہے اور اگر اسی بورڈ سے قبر کشائی کی گئی تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے شواہد ضائع یا تبدیل ہونے کا خطرہ بھی موجود ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے کہا کہ نئی تحقیقاتی ٹیم اور میڈیکل بورڈ کے نوٹیفکیشن پر بھی سنگین تحفظات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آٹھ روز گزرنے کے باوجود مدعی کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا، جب کہ گولی کا خول بھی عدالتی حکم کے بعد اچانک برآمد ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے اور نئے میڈیکل بورڈ کے ارکان میں فرق واضح کیا جائے، کیونکہ پہلے نوٹیفکیشن کو منسوخ کیے بغیر نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
جبران ناصر نے واضح کیا کہ وہ کسی متبادل انتظام کو قبول نہیں کریں گے اور صرف پہلے سے قائم آٹھ رکنی میڈیکل بورڈ کو ہی قانونی اور قابلِ قبول سمجھتے ہیں۔ ان کے مطابق بااثر افراد کو بچانے کے لیے راتوں رات میڈیکل بورڈ تبدیل کیا گیا۔
پولیس سرجن کا کیا کہنا ہے؟
واضح رہے کہ پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے ایس پی ایسٹ کو لکھے گئے خط میں ڈاکٹر اسامہ شیخ کی تیار کردہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی تھی۔
انہوں نے لکھا کہ لاش کے ایکسرے نہیں کیے گئے، انٹری زخم پر موجود بارود کے ذرات کا کیمیائی تجزیہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی فارنزک معیار کے مطابق تصاویر لی گئیں۔
ان کے مطابق انٹری اور ایگزٹ زخموں کی ہڈیوں سے متعلق تفصیلات بھی رپورٹ میں موجود نہیں، جبکہ انٹری زخم کا سائز ایگزٹ زخم سے بڑا درج کیا گیا ہے، جس کی دوبارہ جانچ اور تصدیق ضروری ہے۔
نیا میڈیکل بورڈ
محکمہ صحت سندھ نے گزشتہ شب میر رضا کیس میں قبر کشائی کے لیے نیا پانچ رکنی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا تھا، جبکہ اس سے قبل قائم کیا گیا بورڈ آٹھ ماہرین پر مشتمل تھا۔
نئے بورڈ میں پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمعیہ سید بطور کنوینر شامل ہیں، جب کہ پروفیسر ڈاکٹر ذکی الدین، پروفیسر ڈاکٹر قاضی اکبر، پروفیسر ڈاکٹر عابد حسین چانگ اور پولیس سرجن حیدرآباد ڈاکٹر وسیم خان کو بھی بورڈ کا رکن بنایا گیا ہے۔







