اسلام آباد میں معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی کی یاد میں قائم یادگارِ فتح کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پوری قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ آج کا دن آزادی کی نعمت کی قدر کرنے اور پاکستان کے لیے قربانیاں دینے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا دن ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے برصغیر کے مسلمانوں کو غلامی کے اندھیروں سے نکال کر آزاد وطن دیا۔ پاکستان کے قیام کے لیے ہمارے بزرگوں نے بے مثال قربانیاں دیں، آج ہمیں اس ملک کو مضبوط، خوشحال اور مستحکم بنانے کے عزم کی تجدید کرنا ہوگی۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ معرکۂ حق میں پاکستان کی کامیابی نے پوری قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔ افواجِ پاکستان، فیلڈ مارشل اور قومی سلامتی کے اداروں کو کامیابی پر خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یادگارِ فتح صرف ایک عمارت نہیں بلکہ قومی عزم، اتحاد اور افواجِ پاکستان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی علامت ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج ہر پاکستانی کے دل میں وطن سے محبت کے جذبات موجزن ہیں، پوری قوم نے مشکل وقت میں جس اتحاد کا مظاہرہ کیا وہ پاکستان کی طاقت ہے۔ قوم متحد ہو تو کوئی دشمن پاکستان کو شکست نہیں دے سکتا۔

بھارت کے ساتھ پانی کے تنازع پر وزیراعظم نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے پانی کی ایک ایک بوند ہماری ریڈ لائن ہے، بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اقدام قابلِ قبول نہیں اور پاکستان اپنے آبی حقوق پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان جنگ نہیں چاہتا، ہم خطے میں امن اور استحکام کے خواہاں ہیں، لیکن امن کی خواہش کو کمزوری تصور کرنا بھارت کی غلط فہمی ہوگی۔ اگر بھارت نے اپنی روش تبدیل نہ کی اور پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی تو اسے براہِ راست جواب دیا جائے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی طرف کسی کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ملک کے دفاع اور خودمختاری پر پوری قوم متحد ہے۔ سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن قومی سلامتی کے معاملات پر سب کو ایک صف میں کھڑا ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے جمہوری معاشروں کا حصہ ہے، تاہم سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان ہم سب کا مشترکہ وطن ہے اور اس کی ترقی، سلامتی اور خوشحالی کی ذمہ داری بھی ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں استحکام اور امن کی علامت کے طور پر اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ پاکستان کی خواہش ہے کہ دنیا نئے تنازعات اور جنگوں سے محفوظ رہے اور مسائل کو مذاکرات اور سفارتی ذرائع سے حل کیا جائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر بھی امن کے فروغ کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان نے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ثالثی اور سفارتی کوششوں میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان مستقبل میں بھی خطے اور دنیا میں امن کے لیے مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔

وزیراعظم نے ترکیہ کے دفاعی تعاون کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ بھی مکہ دفاعی معاہدے کا حصہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں باہمی تعاون اور امن کے لیے اہم پیش رفت ہے اور مسلم دنیا کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔

فلسطین کے معاملے پر وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔ فلسطینی عوام کو ان کے بنیادی حقوق ملنے چاہئیں اور عالمی برادری کو فلسطین میں انسانی بحران کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھی پاکستان کے مؤقف کو واضح قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔ پاکستان کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی حمایت جاری رکھے گا۔

افغانستان کے حوالے سے وزیراعظم نے افغان حکومت کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، افغانستان کی حکومت کو اپنی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

وزیراعظم نے پاک بھارت جنگ بندی میں امریکی کردار کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان بروقت جنگ بندی میں کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں لاکھوں قیمتی جانیں بچانے میں مدد ملی۔

شہباز شریف نے کہا کہ وہ امریکی صدر ٹرمپ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا خواہاں ہے اور امید ہے کہ مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون اور تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور خطے میں امن کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ پاکستان کی طاقت اس کی مسلح افواج کے ساتھ ساتھ اس کی متحد قوم بھی ہے، جس نے ہر مشکل گھڑی میں وطن کا ساتھ دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں عہد کرنا ہوگا کہ پاکستان کو مضبوط، معاشی طور پر مستحکم اور ترقی یافتہ ملک بنائیں گے۔ قومی اتحاد، سیاسی برداشت اور معاشی ترقی ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے پاکستان کو دنیا میں ایک مضبوط اور باوقار مقام دلایا جاسکتا ہے۔