ذرائع کے مطابق مجوزہ معاہدے کا مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، انٹیلی جنس شیئرنگ اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر وزیراعظم شہباز شریف ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ سعودی عرب پہنچ چکے ہیں۔ وفد میں فیلڈ مارشل عاصم منیر، وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ حکام شامل ہیں۔
خلیج اور خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال کے تناظر میں وزیراعظم کا یہ دورہ غیر معمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردوان بھی آج سعودی عرب پہنچ رہے ہیں، جہاں ان کی سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ایک اہم سہ فریقی سربراہی ملاقات متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال، باہمی دفاعی روابط، سیکیورٹی چیلنجز اور مشترکہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اس پیش رفت کے بعد سعودی وزیر خارجہ کے آئندہ ہفتے اسلام آباد کے دورے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کے دفتر خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ وزیراعظم شہباز شریف 6 سے 8 اگست تک سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ان کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطحی وفد بھی موجود ہے، جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ، فیلڈ مارشل عاصم منیر، چیف آف ڈیفنس فورسز اور دیگر وفاقی وزراء شامل ہیں۔
دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورے کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کریں گے، جس میں پاک سعودی دوطرفہ تعلقات، تزویراتی تعاون، علاقائی اور عالمی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ دورہ خلیجی خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے، جس کا مقصد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوطرفہ تعاون، تزویراتی شراکت داری اور علاقائی رابطہ کاری کو مزید فروغ دینا ہے۔







