ملاقات کے لیے پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کی رہائش گاہ پہنچے، جبکہ وفد میں چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، علامہ راجہ ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ اور مصطفیٰ نواز کھوکھر شامل تھے۔

جماعت اسلامی کی جانب سے حافظ نعیم الرحمان کے ہمراہ مرکزی رہنما لیاقت بلوچ، میاں محمد اسلم اور نصراللہ رندھاوا بھی ملاقات میں موجود تھے۔ ملاقات کے بعد رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف سیاسی اور آئینی معاملات پر اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وفد آج جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان کے پاس آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کی دعوت دینے کے لیے آیا تھا، ان کے مطابق ملاقات میں خیبرپختونخوا کی صورتحال سمیت ملک کے مجموعی سیاسی حالات پر بھی بات چیت ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ملک سے محبت کرنے والے لوگ موجودہ حالات پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ علامہ راجہ ناصر عباس کے مطابق سیاسی جماعتوں کو موجودہ صورتحال پر باہمی مشاورت کے ذریعے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔

علامہ راجہ ناصر عباس نے کہا کہ ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج مسائل کا حل نہیں ہے، سیاسی معاملات کو سیاسی انداز میں حل کرنے اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان بات چیت کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے وفد کے ساتھ ملاقات میں اچھی اور تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی اے پی سی میں شرکت کرے گی۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھ کر بات کرنے کی ضرورت ہے، خیبرپختونخوا میں کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کی جائے گی جو آئین کو معطل کرکے کیا جائے، جبکہ جماعت اسلامی گورنر راج یا ایمرجنسی کی حمایت نہیں کرے گی۔

امیر جماعت اسلامی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ بات چیت کے معاملے میں کافی تاخیر ہوچکی ہے اور مذاکرات کو کسی نتیجے تک پہنچنا چاہیے، سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے تمام فریقین کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

حافظ نعیم الرحمان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کا موقع فراہم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، عمران خان کی صحت سے متعلق معاملات کو بھی حل کیا جانا چاہیے، جبکہ گرفتار خواتین، جن میں بانی پی ٹی آئی کی بہنیں بھی شامل ہیں، کی رہائی اور پہلے سے گرفتار رہنماؤں کو صحت اور قانونی سہولیات فراہم کرنے کے معاملات پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل ہونا چاہیے اور سیاسی عمل کے ساتھ بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کے لیے جماعت اسلامی اپنا کردار ادا کرے گی۔ حافظ نعیم الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں پر زور دیا کہ مہنگائی کے خلاف جماعت اسلامی کی مہم میں بھی اپنا حصہ ڈالیں۔

اس موقع پر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اس کے ساتھ انصاف نہیں ہوا، تاہم ان کے مطابق پارٹی آج حکومت کے ساتھ ملاقات کے لیے اخلاص کے ساتھ جا رہی ہے، حکومت سے مذاکرات کے لیے کوئی پیشگی شرط نہیں رکھی گئی اور حکومتی مؤقف سننے کے بعد اپنا مؤقف پیش کیا جائے گا۔

بیرسٹر گوہر نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی آواز دبانے کے لیے ایسے اقدامات نہیں کیے جاسکتے۔ ان کے مطابق ایک وزیر کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی سے متعلق بیان بھی تشویش کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کا اعلان اپنی جگہ موجود ہے، تاہم اس کا آئندہ لائحہ عمل حکومت کے رویے سے منسلک ہوگا۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کو دہشتگردی کے معاملات کو سیاسی احتجاج کے ساتھ نہیں ملانا چاہیے۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا کہ وفاقی حکومت نے اب تک صوبائی حکومت کو تحریری طور پر کسی مسئلے سے آگاہ نہیں کیا، صوبائی معاملات اور سیاسی اختلافات کو بات چیت اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کے امکان پر مختلف سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بیانات سامنے آئے ہیں، جبکہ جماعت اسلامی سیاسی مسائل کے حل کے لیے حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت میں کردار ادا کرنے کی پیشکش بھی کرچکی ہے۔

ملاقات اور میڈیا گفتگو کے دوران رہنماؤں نے سیاسی کشیدگی کم کرنے، آئینی عمل برقرار رکھنے اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان مشاورت جاری رکھنے پر زور دیا، جبکہ اے پی سی میں شرکت کے حوالے سے جماعت اسلامی کی جانب سے آمادگی ظاہر کی گئی۔