ایرانی میڈیا اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق ایک مذہبی مقرر نے رات کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مجتبیٰ خامنہ ای دو رات قبل بھی شہدا اسکوائر میں ہونے والے اجتماع میں شریک ہوئے تھے، مقرر کے مطابق یہ ان کی وہاں دوسری مرتبہ آمد تھی اور انہوں نے تقریباً نصف گھنٹے تک اجتماع کا مشاہدہ کیا

منتظمین کی جانب سے اس دعوے کے حق میں تاحال ایسی کوئی واضح تصویر یا ویڈیو جاری نہیں کی گئی جس میں مجتبیٰ خامنہ ای کو اجتماع میں موجود دکھایا گیا ہو، دستیاب رپورٹوں میں بھی ان کی شرکت کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے یہ دعویٰ فی الحال منتظمین اور مقرر کے بیان تک محدود ہے۔

مجتبیٰ خامنہ ای کی عوامی سرگرمیوں اور موجودگی سے متعلق سوالات گزشتہ کئی ماہ سے بھی زیر بحث رہے ہیں۔ ان کے سپریم لیڈر مقرر ہونے کے بعد ان کی عوامی سطح پر موجودگی انتہائی محدود رہی ہے، جبکہ ان کے نام سے بیانات اور پیغامات سامنے آتے رہے ہیں، جون میں یورونیوز نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ ان کی جانب سے پیغامات نشر ہونے کے باوجود ان کی نئی ویڈیو یا تصویر سامنے نہیں آئی تھی۔

ایران میں حالیہ عرصے کے دوران امریکا مخالف اجتماعات اور حکومتی حمایت میں ہونے والی ریلیوں میں بڑی تعداد میں افراد کی شرکت کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ستمبر میں تہران میں ایک بڑے اجتماع میں حکام نے لاکھوں افراد کی شرکت کا دعویٰ کیا تھا، تاہم اس تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی تھی۔

مجتبیٰ خامنہ ای کو مارچ 2026 میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ایران کا نیا سپریم لیڈر مقرر کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کی سرگرمیوں سے متعلق زیادہ تر معلومات سرکاری بیانات یا ان کے نام سے جاری ہونے والے پیغامات کے ذریعے سامنے آتی رہی ہیں۔

شہدا اسکوائر کی حالیہ ریلی میں ان کی مبینہ شرکت سے متعلق دعویٰ بھی اسی تناظر میں سامنے آیا ہے، تاہم جب تک ان کی موجودگی کی تصدیق کرنے والی تصویر، ویڈیو یا دیگر قابلِ اعتماد شواہد سامنے نہیں آتے، اس دعوے کو حتمی طور پر ثابت شدہ واقعہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔