سینئر افسرز کے لیڈرشپ کورس کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی اور ترقی کے لیے بیرونی محاذ کے ساتھ اندرونی محاذ پر بھی بھرپور توجہ دینا ضروری ہے، اچھی حکمرانی، مضبوط ادارے اور مؤثر انتظامی نظام ملک کی اندرونی سیکیورٹی کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک کے بیرونی دفاع کے لیے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں انجام دے رہی ہیں، تاہم اندرونی نظام میں موجود کمزوریاں اور کرپشن بھی سیکیورٹی کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں، سیکیورٹی فورسز کی قربانیوں اور کوششوں کے ساتھ ریاستی اداروں اور حکومتی نظام کو بھی مضبوط بنانا ضروری ہے۔

مریم نواز کے مطابق جب تک ملک کا اندرونی نظام سیکیورٹی اور ترقی کے تقاضوں کو مؤثر انداز میں سپورٹ نہیں کرے گا، دیرپا معاشی اور سماجی ترقی کا حصول مشکل رہے گا۔ انہوں نے حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے، پالیسیوں پر مؤثر عملدرآمد اور گورننس کے نظام کو مزید فعال بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان میں پالیسیوں کے تسلسل کا فقدان بھی ترقی کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ ہے، حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ پالیسیوں میں بار بار تبدیلی سے ترقیاتی منصوبوں اور طویل المدتی اہداف پر اثر پڑتا ہے، اس لیے قومی سطح پر ایسی پالیسیوں کی ضرورت ہے جنہیں تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ صورتحال کے دوران پاکستان نے عالمی سطح پر اپنا مؤقف اور تشخص پیش کیا، تاہم ملک کی طویل المدتی ترقی کے لیے مضبوط اندرونی نظام اور پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے۔

مریم نواز نے صوبائی ہم آہنگی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کی گفتگو صرف پنجاب، خیبرپختونخوا، سندھ یا بلوچستان تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ پورے پاکستان کے تناظر میں ہونی چاہیے، سب سے پہلے پاکستانی ہونے کی سوچ کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور صوبائی و علاقائی تفریق سے بالاتر ہوکر قومی مفاد کو سامنے رکھنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے چاروں صوبے ملک کا حصہ ہیں اور اختیارات کی تقسیم کا مقصد انتظامی امور کو مؤثر بنانا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ صوبے ایک دوسرے سے الگ اکائیاں بن گئے ہیں۔ وزیراعلیٰ کے مطابق وفاق اور صوبوں کے درمیان اعتماد، تعاون اور مؤثر رابطہ قومی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

افغانستان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ افغانستان پاکستان کا ہمسایہ اور مسلم برادر ملک ہے اور پاکستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ تصادم کے بجائے پرامن تعلقات چاہتا ہے، اگر کسی ہمسایہ ملک کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو تو ریاست اس صورتحال کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ دہشتگرد عناصر کو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے کسی بھی سرحدی علاقے کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے سیکیورٹی کے معاملے میں مؤثر ادارہ جاتی تعاون اور ریاستی نظام کی مضبوطی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مریم نواز نے پنجاب میں امن و امان اور حکومتی نظام کے حوالے سے کہا کہ صوبے میں اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ دی جارہی ہے، پولیس، انفورسمنٹ ادارے اور سیف سٹی نظام امن و امان برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو مکمل طور پر روکنے کی ضمانت کوئی نہیں دے سکتا، تاہم قیادت کا بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہر ادارہ اور تنظیم اپنی ذمہ داری مؤثر انداز میں ادا کرے۔ ان کے مطابق مؤثر قیادت صرف فیصلے کرنے کا نام نہیں بلکہ اداروں کو درست سمت میں آگے بڑھانے اور دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کرنے کا عمل بھی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے سینئر افسران پر زور دیا کہ وہ حکومتی کارکردگی اور قیادت کے حقیقی تقاضوں کو سمجھیں اور انتظامی ذمہ داریوں کو عوامی مفاد سے جوڑیں، ان کی گفتگو کا مقصد محض تقریر کرنا نہیں بلکہ قیادت، گورننس، سیکیورٹی اور قومی یکجہتی سے متعلق بنیادی نکات پر غور کرنا ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ ملک کو درپیش اندرونی و بیرونی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ریاستی اداروں، وفاق اور صوبوں کے درمیان بہتر رابطہ، پالیسیوں کا تسلسل اور قومی سطح پر مشترکہ سوچ ضروری ہے، مضبوط ادارہ جاتی نظام اور قومی یکجہتی کے ذریعے پاکستان کو درپیش سیکیورٹی اور ترقی کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت بہتر بنائی جاسکتی ہے۔