پیٹرولیم ڈویژن نے 2 اکتوبر کے لیے پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، جس کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے وفاقی حکومت کے جاری کردہ طریقہ کار کے تحت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں مسلسل 3 روز کمی کے بعد 3 روپے 26 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی قیمت 387 روپے 40 پیسے سے بڑھ کر 390 روپے 66 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مسلسل چوتھے روز ایک روپے ایک پیسے کی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 400 روپے 35 پیسے سے کم ہوکر 399 روپے 34 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگیا ہے، جبکہ نئی قیمتیں 2 اکتوبر کے لیے مقرر کی گئی ہیں۔

وزارت توانائی کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ عالمی سطح پر پلاٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر عوامل میں تبدیلی کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز 30 ستمبر کو بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی گئی تھی۔ پیٹرول کی قیمت میں 14 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں ایک روپے 89 پیسے فی لیٹر کمی کی گئی تھی، جس کے بعد پیٹرول 387 روپے 40 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 400 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہوگیا تھا۔

اس سے قبل 29 ستمبر کو حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے 49 پیسے کمی کی تھی، جس کے بعد پیٹرول 387 روپے 54 پیسے فی لیٹر مقرر ہوا تھا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 2 روپے 73 پیسے کمی کے بعد 402 روپے 24 پیسے فی لیٹر ہوگئی تھی۔

28 ستمبر کو بھی حکومت نے پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 2 روپے 27 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 56 پیسے کمی کی تھی۔ اس کمی کے بعد پیٹرول 389 روپے 3 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 404 روپے 97 پیسے فی لیٹر مقرر ہوا تھا۔

25 ستمبر کو حکومت نے 26 سے 28 ستمبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 2 روپے 2 پیسے اضافہ کیا تھا، جس کے بعد پیٹرول 391 روپے 30 پیسے فی لیٹر ہوگیا تھا، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 59 پیسے کمی کرکے 408 روپے 53 پیسے فی لیٹر مقرر کیا گیا تھا۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں اور مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال سے منسلک ہے۔ خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی تیل مارکیٹ میں قیمتوں میں تیزی سے تبدیلیاں ہوئی ہیں، جن کے اثرات پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر مرتب ہوئے۔

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ کی بنیاد پر تعین کا فیصلہ کیا ہے، تاہم ہفتہ اور اتوار کو قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی اور قیمتیں برقرار رہتی ہیں۔

مسلسل مہنگے ایندھن کے اثرات کم کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے 13 ستمبر کو موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے فی لیٹر پیٹرول پر 100 روپے ریلیف دینے کا اعلان بھی کیا تھا۔

وزارت خزانہ کے مطابق اس ہدفی فیول ریلیف اسکیم کے تحت موٹرسائیکل اور تین پہیوں والی گاڑیوں کے صارفین کو ہفتہ وار 500 روپے تک جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے غیر تجارتی صارفین کو مخصوص شرائط کے تحت 1000 روپے تک ریلیف دینے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔