ایوانِ صدر کے مطابق صدر آصف علی زرداری سے وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔
ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت اور پیپلز پارٹی پر مشتمل مشترکہ وفد 2 اکتوبر کو پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کرے گا اور موجودہ سیاسی صورتحال پر مذاکرات کرے گا۔
مشترکہ کمیٹی میں وفاقی حکومت کی جانب سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ اور امیر مقام جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے شیری رحمان، سید نوید قمر اور اعجاز جکھرانی شامل ہیں۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر توقیر شاہ، سینیٹر سلیم مانڈوی والا، سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن اور سید ناصر حسین شاہ بھی شریک ہوئے۔
اعلامیے کے مطابق صدر مملکت اور وزیراعظم نے ملکی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا اور دہشت گردی کے خلاف قومی عزم مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ملک میں امن و استحکام کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر تعاون کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
دوسری جانب چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے تصدیق کی ہے کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کے لیے ملاقات کا پیغام موصول ہوگیا ہے۔
بیرسٹر گوہر کے مطابق حکومتی اور اپوزیشن وفود کے درمیان ملاقات 2 اکتوبر کو دوپہر 12 بجے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے دفتر میں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی روشنی میں حکومت کی دعوت قبول کرلی گئی ہے۔
خیال رہے کہ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہونے جارہی ہے جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان سیاسی کشیدگی کے ساتھ خیبرپختونخوا کی سیکیورٹی صورتحال اور صوبائی و وفاقی حکومتوں کے درمیان اختلافات بھی برقرار ہیں۔







