پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ انہوں نے تحریک انصاف کو مذاکرات کی نئی پیشکش کی ہے، تاہم اس میں کوئی صداقت نہیں، عامر ڈوگر سے ملاقات معمول کے پارلیمانی رابطوں کا حصہ تھی جس میں قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس کے ایجنڈے، یومِ آزادی کی تقریبات اور ان میں مختلف جماعتوں کی شرکت سے متعلق امور زیرِ بحث آئے۔

ایاز صادق نے بتایا کہ یومِ آزادی کی مرکزی تقریب کے لیے تحریک انصاف کے ارکانِ قومی اسمبلی کے نام طلب کیے گئے تھے تاکہ دیگر پارلیمانی جماعتوں کی طرح انہیں بھی قومی تقریب میں شامل کیا جا سکے، اس ملاقات کو سیاسی مذاکرات کا رنگ دینا درست نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اگر وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کسی سیاسی جماعت سے مذاکرات یا رابطوں کے حوالے سے کوئی گفتگو کی ہے تو اس بارے میں انہیں معلومات نہیں، وہ صرف اپنے دائرۂ اختیار میں ہونے والی باتوں پر ہی تبصرہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران وہ متعدد مرتبہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے لیے کردار ادا کرنے کی کوشش کر چکے ہیں، لیکن اب مزید دعوتیں دینے کا ارادہ نہیں رکھتے، ہم بارہا سیاسی جماعتوں کو ایک میز پر لانے کی کوشش کرتے رہے، تاہم خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے باعث اب اس حوالے سے مزید پیشکش نہیں کریں گے۔

اسپیکر نے کہا کہ وزیراعظم بھی پارلیمنٹ کے فلور پر مختلف مواقع پر اپوزیشن کو مذاکرات کی دعوت دے چکے ہیں، لیکن اس کا مثبت جواب سامنے نہیں آیا، ملک کو درپیش سیاسی اور قومی مسائل کا حل صرف پارلیمنٹ کے اندر سنجیدہ اور بامقصد مکالمے سے ہی ممکن ہے، جبکہ محض میڈیا بیانات یا پریس کانفرنسوں سے اختلافات ختم نہیں کیے جا سکتے۔

انہوں نے پارلیمانی کمیٹیوں کے حوالے سے بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن اپوزیشن ارکان کی عدم شرکت کے باعث بعض پارلیمانی کمیٹیوں کا نظام متاثر ہوا، انہی کی جانب سے ان کمیٹیوں کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے کوئی باضابطہ درخواست بھی موصول نہیں ہوئی، اگر اپوزیشن واقعی پارلیمانی نظام کو مؤثر بنانا چاہتی ہے تو اسے عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔

ایاز صادق نے کہا کہ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تحریک انصاف نے اپوزیشن لیڈر کا انتخاب حکومت سے رابطوں اور مذاکرات کے لیے کیا تھا، تاہم عملی طور پر ایسی کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دے رہی، ایسا لگتا ہے جیسے اپوزیشن قیادت کو اس حوالے سے مکمل اختیار حاصل نہیں۔

اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ اگر تحریک انصاف کے قائمہ کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے پاس موجود پارلیمانی عملہ واپس کر دیا جائے تو اسے دیگر ضروری پارلیمانی امور میں استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے ایوان کی کارکردگی مزید بہتر ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اپوزیشن لیڈر کسی وجہ سے اسپیکر چیمبر میں ملاقات نہیں کرنا چاہتے تو پارلیمنٹ ہاؤس کے کسی بھی کمیٹی روم میں ملاقات کی جا سکتی ہے، وہ اس مقصد کے لیے اپنا چیمبر بھی خالی کرنے کو تیار ہیں، لیکن اس کے لیے دونوں جانب سے سنجیدگی ضروری ہے۔

ایاز صادق نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہوتے ہیں، تاہم قومی مفاد میں تمام سیاسی قوتوں کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، پارلیمنٹ ہی وہ مؤثر فورم ہے جہاں قومی معاملات پر اتفاقِ رائے پیدا کیا جا سکتا ہے، جبکہ مسلسل محاذ آرائی سے نہ صرف سیاسی ماحول متاثر ہوتا ہے بلکہ قانون سازی کا عمل بھی سست پڑ جاتا ہے۔