پشاور میں جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے صوبائی محکموں کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھائے، مختلف محکموں کی جانب سے دی جانے والی بریفنگز میں ایسے معاملات سامنے آتے ہیں جن پر تشویش ہوتی ہے۔ ان کے مطابق شہر میں صفائی ستھرائی کے لیے اب جو اقدامات کیے جارہے ہیں، وہ پہلے بھی کیے جاسکتے تھے۔

گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ ماضی میں سرکاری ملازمین کی حاضری اور فرائض کی ادائیگی سے متعلق بھی سوالات موجود تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ بعض ملازمین مبینہ طور پر دفاتر میں حاضر ہونے کے بجائے گھروں میں کام کرتے رہے یا ڈیوٹی پر موجود ہوئے بغیر تنخواہیں وصول کرتے رہے۔

فیصل کریم کنڈی نے واضح کیا کہ اب سرکاری ملازمین کی کارکردگی اور حاضری کے معاملے پر کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی، جو ملازم گھر بیٹھ کر تنخواہ وصول کرے گا، اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی، جبکہ کسی بھی الزام پر جرم ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق سزا اور جزا کا نظام نافذ ہوگا۔

پی ٹی آئی سے مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر کے پی نے کہا کہ پارٹی کے اندر ہی اختلافات موجود ہیں اور اس کی قیادت مختلف دھڑوں میں تقسیم دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے اندر چار مختلف گروپس یا فرنچائزز موجود ہیں، جبکہ جماعت اپنے چیئرمین، جنرل سیکریٹری اور اسپیکر کے معاملات پر بھی یکساں مؤقف نہیں رکھتی۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ جو جماعت اپنے ہی رہنماؤں اور عہدیداروں کے درمیان اتفاق رائے قائم نہیں کرسکتی، اس کے ساتھ مذاکرات کس بنیاد پر کیے جائیں؟ فیصل کریم کنڈی نے پی ٹی آئی کے مختلف گروپس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے یہ واضح ہونا چاہیے کہ جماعت کی اصل قیادت اور نمائندہ کون ہے۔

گورنر خیبرپختونخوا نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندر جاری اختلافات کے باعث اس کی سیاسی پوزیشن بھی متاثر ہورہی ہے، پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو پہلے اپنے اندرونی معاملات طے کرنے چاہئیں تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ مذاکرات کی صورت میں جماعت کی نمائندگی کون کرے گا۔

دوسری جانب سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے وارنٹ گرفتاری سے متعلق سوال پر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ اس معاملے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی کارروائی کے لیے قانون اور مقررہ طریقہ کار کی پابندی ضروری ہے۔

واضح رہے کہ گورنر خیبرپختونخوا کے یہ بیانات صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال، پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے امکانات کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔