پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کے مطابق حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ڈیلرز کے مارجن میں فی لیٹر 1.34 روپے اضافے کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ایسوسی ایشن نے ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ واپس لینے کا اعلان کیا۔

حکومت کی جانب سے بھی ڈیلرز کے مارجن پر نظرثانی کی منظوری کی تصدیق کردی گئی ہے۔ وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر ڈیلرز کے مارجن میں نظرثانی سے متعلق پیٹرولیم ڈویژن کی سمری پر غور کیا گیا اور اس کی منظوری دے دی گئی۔

ذرائع کے مطابق اس فیصلے کے بعد ڈیلرز کا مارجن 8.64 روپے فی لیٹر سے بڑھ کر تقریباً 9.98 روپے فی لیٹر ہوجائے گا۔ ڈیلرز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ مارجن میں یہ اضافہ طویل عرصے سے زیر التوا تھا اور موجودہ کاروباری اخراجات کے تناظر میں اس پر نظرثانی ضروری تھی۔

ہڑتال کیوں کی جا رہی تھی؟

پیٹرولیم ڈیلرز اور حکومت کے درمیان مارجن اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر گزشتہ کئی ہفتوں سے اختلافات جاری تھے، موجودہ مارجن میں کاروباری اخراجات پورے کرنا مشکل ہوگیا ہے، جبکہ انہوں نے حکومت سے خوردہ قیمت پر اپنے مارجن کو 8 فیصد تک بڑھانے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔

اسی معاملے پر پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا اور مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں 15 اگست کی صبح 6 بجے سے ملک بھر کے پیٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بعد ازاں حکومت اور ڈیلرز کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن میں ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کے معاملے پر پیش رفت ہوئی۔ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک کی جانب سے بھی ڈیلرز کو یقین دہانی کرائی گئی کہ ان کے مارجن میں 1.34 روپے فی لیٹر اضافے کی سمری متعلقہ فورم پر پیش کی جا رہی ہے۔

حکومت نے کیا فیصلہ کیا؟

اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات پر ڈیلرز کے مارجن پر نظرثانی کی منظوری دی گئی۔ فیصلہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، جس میں متعلقہ وفاقی وزرا اور اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ڈیلرز کے مارجن میں اضافے کے بعد موجودہ 8.64 روپے فی لیٹر کا مارجن بڑھ کر 9.98 روپے فی لیٹر ہوجائے گا۔ اس فیصلے کو حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے درمیان جاری تنازع میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ڈیلرز کا کہنا ہے کہ مارجن میں اضافہ ان کے تمام مطالبات کا مکمل حل نہیں ہے۔ ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے واضح کیا ہے کہ دیگر معاملات پر بھی حکومت کے ساتھ بات چیت جاری رکھی جائے گی۔

روزانہ قیمتوں میں تبدیلی پر بھی اختلاف

پیٹرولیم ڈیلرز اور حکومت کے درمیان صرف مارجن ہی نہیں بلکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار پر بھی اختلاف موجود ہے۔

حکومت نے حالیہ عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں زیادہ تواتر سے نظرثانی کا طریقہ اختیار کیا ہے، جبکہ ڈیلرز کا مطالبہ ہے کہ قیمتوں میں روزانہ کی بنیاد پر تبدیلی کے بجائے ایک مقررہ مدت کے بعد نظرثانی کی جائے۔

ڈیلرز نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ روزانہ قیمتوں میں تبدیلی سے کاروباری معاملات اور قیمتوں کے حساب کتاب میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں۔ ایسوسی ایشن نے قیمتوں پر نظرثانی کا عمل 7 یا 15 روز کے وقفے سے کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

تاہم حکومت کی جانب سے روزانہ قیمتوں کے تعین کے طریقہ کار کو جاری رکھنے کا مؤقف سامنے آیا ہے۔

ڈیلرز کا احتجاج جاری رکھنے کا عندیہ

پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کے فیصلے کے بعد فوری طور پر ملک گیر ہڑتال مؤخر کردی، تاہم ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اس کے دیگر مطالبات بھی زیرِ غور ہیں۔

ڈیلرز کے نمائندوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے دیگر مطالبات پر پیش رفت نہ ہوئی تو احتجاج کا راستہ دوبارہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ گزشتہ کئی برس سے ڈیلرز کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مارجن میں بروقت نظرثانی نہ ہونے سے کاروباری مشکلات بڑھتی رہی ہیں۔

عوام کو کیا ریلیف ملا؟

ہڑتال مؤخر ہونے کے بعد ملک بھر میں پیٹرول پمپس کی ممکنہ بندش کا فوری خطرہ ٹل گیا ہے۔ اگر ہڑتال شروع ہوجاتی تو ملک کے مختلف شہروں میں پیٹرول کی فراہمی متاثر ہونے، پمپس پر لمبی قطاریں لگنے اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا تھا۔

حکومت اور ڈیلرز کے درمیان آخری وقت میں ہونے والی پیش رفت کے باعث فی الحال پیٹرول پمپس معمول کے مطابق کھلے رہنے کی توقع ہے۔

تاہم ڈیلرز کے دیگر مطالبات اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نظرثانی کے طریقہ کار پر اختلافات برقرار ہیں، اس لیے آنے والے دنوں میں حکومت اور ایسوسی ایشن کے درمیان مزید مذاکرات متوقع ہیں۔

یوں فی الحال ملک گیر پیٹرول پمپ ہڑتال کا خطرہ ٹل گیا ہے، لیکن ڈیلرز اور حکومت کے درمیان مارجن، قیمتوں کے تعین اور دیگر مطالبات پر اختلافات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔