’’What if automating AI R&D triggers an intelligence explosion?‘‘ کے عنوان سے جاری مقالے میں 20 سے زائد ماہرین نے اے آئی تحقیق و ترقی کے بڑھتے ہوئے خودکاری کے عمل اور اس کے ممکنہ نتائج کا جائزہ لیا ہے۔ مقالے کے مصنفین میں اے آئی کے معروف ماہرین جیفری ہنٹن اور یوشوا بینجیو کے علاوہ اینتھروپک کے شریک بانی جیک کلارک اور اوپن اے آئی کے چیف سائنسدان جیکب پیچکوکی بھی شامل ہیں۔

مقالے میں جس صورتحال کو ’’انٹیلی جنس ایکسپلوژن‘‘ کہا گیا ہے، اس سے مراد ایسا ممکنہ مرحلہ ہے جس میں اے آئی سسٹمز خود اے آئی تحقیق اور ترقی کے کام کو تیزی سے انجام دینے لگیں، اگر اے آئی اپنے ڈویلپمنٹ کے عمل کو مؤثر انداز میں خودکار بنانے میں کامیاب ہوگئی تو ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار موجودہ اندازوں کے مقابلے میں کئی گنا بڑھ سکتی ہے اور برسوں میں ہونے والی پیشرفت مہینوں یا اس سے بھی کم عرصے میں سامنے آسکتی ہے۔

مقالے کے مطابق موجودہ اے آئی سسٹمز پہلے ہی سافٹ ویئر کوڈ لکھنے، تحقیق میں معاونت اور ماڈلز کی تیاری جیسے کاموں میں زیادہ کردار ادا کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان اے آئی تحقیق کے بڑے حصے تک پہنچ گیا تو ایک ایسا فیڈ بیک لوپ پیدا ہوسکتا ہے جس میں اے آئی ٹیکنالوجی نئی اے آئی ٹیکنالوجی کی تیاری کو مزید تیز کرے۔

مصنفین نے خبردار کیا کہ ایسے منظرنامے میں انسانی محققین کے کردار میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر اے آئی سسٹمز ماہر انسانی سطح کی اے آئی تحقیق کرنے اور پھر اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے قابل ہوگئے تو ایک محدود تعداد میں انسان ایسے سسٹمز کو استعمال کرتے ہوئے بہت بڑے تحقیقی عمل کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔

ماہرین نے اس امکان کو یقینی قرار نہیں دیا۔ مقالے میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’انٹیلی جنس ایکسپلوژن‘‘ کا وقوع پذیر ہونا ابھی ایک ممکنہ منظرنامہ ہے اور اس حوالے سے کئی اہم عوامل غیر یقینی ہیں۔ تاہم مصنفین کے مطابق ممکنہ خطرات کی شدت کو دیکھتے ہوئے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کے لیے پیشگی تیاری ضروری ہے۔

مقالے میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ اگر اے آئی کی صلاحیتوں میں انتہائی تیزی سے اضافہ ہوا تو ریاستوں، کمپنیوں اور حکومتی اداروں کے لیے ٹیکنالوجی کی نگرانی اور اس سے پیدا ہونے والے اثرات سے نمٹنا مشکل ہوسکتا ہے۔ مصنفین کے مطابق تیز رفتار خودکار ترقی طاقت کے موجودہ توازن اور حکمرانی کے نظام پر بھی اثرانداز ہوسکتی ہے۔

ماہرین نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اے آئی کی ترقی اور اس کے تحقیق و ترقی کے عمل میں خودکاری سے متعلق زیادہ شفاف معلومات فراہم کی جائیں۔ ان کی تجاویز میں اے آئی کمپنیوں کے اندر آزادانہ جانچ اور آڈٹ، ترقی کی رفتار کو محدود یا منظم کرنے کے طریقوں پر غور اور کسی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق اینتھروپک اور اوپن اے آئی سمیت بعض بڑی اے آئی کمپنیوں نے اپنے ماڈلز کی آزادانہ جانچ اور جائزے کی حمایت کی ہے، شفافیت اور آزادانہ نگرانی کے ایسے طریقہ کار سے حکومتوں اور عوام کو یہ سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے کہ اے آئی کی صلاحیتیں کس رفتار سے تبدیل ہورہی ہیں۔

مصنفین کے مطابق اے آئی تحقیق کی خودکاری کے نتیجے میں تیز رفتار سائنسی اور تکنیکی ترقی کے امکانات بھی موجود ہیں، لیکن اسی کے ساتھ ایسے خطرات بھی پیدا ہوسکتے ہیں جن کے لیے موجودہ حکومتی اور ادارہ جاتی نظام پوری طرح تیار نہ ہوں۔ اسی لیے مقالے میں اے آئی کی ترقی کو روکنے کے بجائے اس کی رفتار، سمت اور ممکنہ خطرات پر بہتر نگرانی کے لیے اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اے آئی کی مستقبل کی رفتار کے بارے میں حتمی پیش گوئی ممکن نہیں، تاہم اس امکان کو نظرانداز بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ٹیکنالوجی اپنی تحقیق و ترقی کے عمل میں انسانوں پر انحصار کم کرتی جائے، اگر ایسا مرحلہ آتا ہے تو معاشرے اور حکومتوں کے پاس ردعمل کے لیے دستیاب وقت بہت محدود ہوسکتا ہے، اس لیے تیاری اور شفاف نگرانی کا عمل پہلے سے شروع کرنا ضروری ہے۔