سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق بدھ کو دارالحکومت ریاض کے قصر الیمامہ میں ہونے والی ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور فرانس کے درمیان تاریخی تزویراتی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا۔
ملاقات میں علاقائی اور عالمی صورتِ حال کے علاوہ مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر بھی بات چیت ہوئی۔
اس موقعے پر سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان، وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ریاض ریجن کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمان اور دیگر اعلیٰ سعودی حکام موجود تھے۔ فرانسیسی وزیر خارجہ سمیت متعدد وزرا اور اعلیٰ عہدیداروں نے بھی ملاقات میں شرکت کی۔
فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور فرانس کے درمیان شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
بیان میں کہا گیا کہ فرانس اور سعودی عرب ایسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں پر مل کر کام کریں گے جن کا مقصد آبنائے ہرمز سے وابستہ خطرات کو کم کرنا ہے۔
فرانسیسی صدارتی دفتر کے مطابق سعودی عرب نے ینبع میں توانائی کے اہم بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کے لیے فرانس کی معاونت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون بڑھانے کے لیے جلد مزید مشاورت بھی کی جائے گی۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکخواں بدھ کو سعودی عرب کے سرکاری دورے پر ریاض پہنچے تھے۔ شاہ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ریاض ریجن کے نائب گورنر شہزادہ محمد بن عبدالرحمان نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقعے پر ریاض کے میئر شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز بن عیاف، سعودی عرب میں فرانس کے سفیر پیٹرک میسناؤ اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔
میکخواں کا سعودی عرب کا دورہ خلیجی ممالک کے وسیع تر دورے کا حصہ ہے، جس کا مقصد توانائی کی فراہمی کو یقینی بنانے اور فرانس میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب فرانس کو مہنگائی کے خلاف احتجاج کا سامنا ہے۔
ریاض روانگی سے قبل دوحہ میں گفتگو کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا تھا کہ فرانس سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ اور اسے حملوں سے بچانے کے لیے مملکت کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے تصدیق کی کہ فرانس نے گزشتہ ہفتے کے دوران ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے حملوں سے سعودی عرب کے تحفظ کی کوششوں میں معاونت کے لیے فوجی اہلکار اور دفاعی صلاحیتیں تعینات کی ہیں۔
میکخواں کے مطابق فرانس نے سعودی عرب کو ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کی بحالی اور اس کی سکیورٹی میں کردار ادا کرنے کی پیش کش بھی کی ہے، جسے حوثی حملے کے نتیجے میں نقصان پہنچا تھا۔







