وزارتِ داخلہ کے مطابق روسی وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کسی بھی روسی وزیرِ داخلہ کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔اسلام آباد آمد پر وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ولادیمیر کولوکولتسف کا استقبال کیا۔

وزارتِ داخلہ کے مطابق روسی وزیرِ داخلہ اپنے قیام کے دوران پاکستانی قیادت سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جن میں دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے سے متعلق امور زیرِ بحث آئیں گے۔

اس سے قبل رواں سال جنوری میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پاکستان کے ساتھ تعلقات کو حقیقی معنوں میں باہمی طور پر فائدہ مند قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو اسلام آباد کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھے ہوئے ہے۔

پاکستان میں روسی سفارت خانے کے مطابق صدر پیوٹن نے کہا تھا کہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا مکمل رکن ہے اور روس کے ساتھ اس کے تعلقات باہمی مفادات پر مبنی ہیں۔

گزشتہ سال جولائی میں روس کے نائب وزیراعظم الیکسی اوورچک نے بھی پاکستان اور روس کو قدرتی اتحادی قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پاکستان کو معیشت اور توانائی کے شعبوں میں اہم اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتے ہیں۔

حالیہ برسوں کے دوران پاکستان اور روس کے درمیان معاشی اور توانائی کے شعبوں میں تعاون میں اضافہ ہوا ہے۔ یوکرین جنگ کے بعد مغربی پابندیوں کے تناظر میں روس نے توانائی کی نئی منڈیوں کی تلاش تیز کی، جبکہ پاکستان نے بھی درآمدی اخراجات کم کرنے کے لیے ایندھن کے متبادل اور نسبتاً سستے ذرائع تلاش کیے۔

دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کی اہم پیش رفت 2023 میں سامنے آئی، جب پاکستان نے روسی خام تیل کی درآمد شروع کی۔

روسی وزیرِ داخلہ کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے اور باہمی تعاون کے نئے امکانات پر بات چیت کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔