شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر 19 اور 20 اگست کو پاکستان کا سرکاری دورہ کیا۔ شام میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ کسی بھی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ تھا، جسے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
دورۂ پاکستان کے دوران شامی وزیر خارجہ نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال، باہمی دلچسپی کے امور اور مختلف شعبوں میں تعاون کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
مذاکرات کے دوران دونوں جانب سے پاکستان اور شام کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ روابط کو مزید فعال بناتے ہوئے باہمی تعاون کے لیے نئے مواقع تلاش کیے جائیں گے۔
پاکستان اور شام نے دونوں ممالک کے درمیان موجود ادارہ جاتی رابطہ کاری کے میکنزم کو جلد فعال کرنے پر بھی اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں باقاعدہ مشاورت اور اعلیٰ سطحی رابطوں کو مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تاکہ دوطرفہ تعاون کو ایک منظم اور مستقل بنیادوں پر آگے بڑھایا جاسکے
ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، تعلیم، ثقافت اور عوامی سطح پر روابط سمیت باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے امکانات بھی زیر بحث آئے۔ دونوں ممالک نے عوام سے عوام کے روابط کو مضبوط بنانے کو بھی دوطرفہ تعلقات کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا
شامی وزیر خارجہ نے اپنے دورۂ پاکستان کے دوران وزیراعظم محمد شہباز شریف سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان اور شام کے تعلقات، باہمی تعاون کے امکانات اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اس کے علاوہ اسعد حسن الشیبانی نے وزیر داخلہ و انسدادِ منشیات، وزیر تجارت اور چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں متعلقہ شعبوں میں تعاون اور دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنانے کے امور پر گفتگو کی گئی۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق شامی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ دوستی کو نئی جہت دینے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے، دورے سے پاکستان اور شام کے درمیان باہمی تعاون کے لیے ایک مستقبل بین فریم ورک کی تشکیل میں مدد ملے گی۔
دفتر خارجہ کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان موجود تاریخی تعلقات کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق مزید مضبوط بنانے کے لیے اعلیٰ سطحی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا، جبکہ باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون کے نئے راستے تلاش کیے جائیں گے۔
حکام کے مطابق شامی وزیر خارجہ کا دورہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی روابط کے ساتھ ساتھ اقتصادی، تجارتی اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید آگے بڑھانے کے لیے بھی اہم بنیاد فراہم کر سکتا ہے۔
پاکستان اور شام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ دونوں ممالک باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور قریبی روابط کی بنیاد پر دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے مل کر کام جاری رکھیں گے۔







