میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یمن میں جاری لڑائی کے دوران حوثیوں نے بعض علاقوں سے پسپائی اختیار کی ہے جبکہ یمنی فوج نے کئی علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرلیا ہے۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان اور ترکیہ کی افواج کی خطے میں موجودگی ضرور ہے، تاہم اس وقت یمن کے اندر جاری جنگی کارروائیوں میں سعودی فوج ہی براہِ راست حصہ لے رہی ہے، دونوں ممالک کی افواج سعودی عرب کی ضرورت کے مطابق معاونت فراہم کررہی ہیں۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ ریاض میں ہونے والا حالیہ اجلاس براہِ راست یمن میں جاری جنگ کے آپریشنل معاملات کے لیے نہیں تھا بلکہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت قائم دفاعی اتحاد کے تنظیمی اور عملی ڈھانچے کو حتمی شکل دینے کے حوالے سے تھا۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو جس نوعیت کی مدد درکار ہے، وہ فراہم کی جارہی ہے، پاکستان اور ترکیہ اس وقت سپورٹ کا کردار ادا کررہے ہیں جبکہ سعودی افواج یمن میں حوثیوں کے خلاف براہِ راست فوجی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
خواجہ آصف کے مطابق یمن کی صورتحال میں حالیہ پیش رفت کے دوران حوثیوں کو بعض علاقوں میں پسپائی کا سامنا کرنا پڑا ہے جبکہ سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے متعدد مقامات پر دوبارہ کنٹرول حاصل کیا ہے۔ دوسری جانب حوثیوں کی جانب سے بھی سعودی اہداف کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ حالیہ لڑائی نے یمن کے تنازع کو دوبارہ نمایاں فوجی کشیدگی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر عملدرآمد کے لیے اقدامات تیز کیے جارہے ہیں۔ 5 اکتوبر کو ریاض میں تینوں ممالک کے تذویراتی سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں اتحاد کے دفاعی وعدوں پر عملدرآمد اور فوجی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی کے طریقہ کار پر اتفاق کیا گیا۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس میں سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا گیا، جبکہ سعودی عرب کے خلاف مسلسل حملوں اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کی مذمت بھی کی گئی۔ اجلاس میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود کو مکہ اتحاد برائے دفاع کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کرنے کی منظوری بھی دی گئی۔
مکہ دفاعی معاہدہ سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے رواں سال اگست میں کیا تھا، جس کے تحت تینوں ممالک نے ایک دوسرے کی سلامتی اور دفاع کے لیے مشترکہ تعاون کا فریم ورک قائم کیا۔ بعد ازاں یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملوں میں اضافے کے بعد اس معاہدے کے عملی پہلوؤں پر پیش رفت ہوئی۔
خواجہ آصف نے اس سے قبل بھی واضح کیا تھا کہ سعودی عرب کی سلامتی کو کسی بھی جانب سے خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں پاکستان اس کے دفاع کے لیے موجود ہوگا، پاکستان خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کے ساتھ سعودی عرب کی سلامتی کے حوالے سے اپنے وعدوں پر بھی قائم ہے۔
یمن میں موجودہ لڑائی کے تناظر میں باب المندب اور بحیرہ احمر کی صورتحال بھی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔ یہ خطہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے، جبکہ حالیہ کشیدگی کے باعث تجارتی جہاز رانی اور علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر دفاع کے مطابق موجودہ صورتحال میں سعودی افواج براہِ راست جنگی کارروائیاں کررہی ہیں جبکہ پاکستان اور ترکیہ معاون کردار ادا کررہے ہیں، مکہ دفاعی اتحاد کے تحت تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کا عمل جاری ہے، تاہم یمن کے اندر براہِ راست جنگی کارروائیوں کے حوالے سے موجودہ کردار سعودی افواج تک محدود ہے۔







