اسلام آباد میں کشمیر چوک کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت کے راستے بند نہیں کیے، حکومت کی کوشش رہی ہے کہ سیاسی معاملات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے اور ملک کو احتجاج، دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست سے دور رکھا جائے۔

شہباز شریف نے کہا کہ ملک میں ایک مرتبہ پھر دھرنوں اور لانگ مارچ کے سائے منڈلا رہے ہیں، ایسے حالات میں حکومت نے اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا تھا تاکہ سیاسی کشیدگی کم کی جاسکے اور کسی ممکنہ احتجاجی صورتحال سے بچا جاسکے۔

وزیراعظم کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں حکومت اور پی ٹی آئی کی مذاکراتی کمیٹیوں کے درمیان دو روز تک بات چیت ہوئی۔ حکومت کو امید تھی کہ مذاکرات سے مثبت پیش رفت ہوگی اور فریقین کسی قابلِ قبول حل تک پہنچ جائیں گے، جس کے نتیجے میں دھرنے یا لانگ مارچ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سمیت حکومت کی اتحادی جماعتوں نے بھی مذاکراتی عمل میں سنجیدگی کا مظاہرہ کیا، حکومت نے سیاسی اختلافات کے باوجود بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی اور پی ٹی آئی کو احتجاجی سرگرمیوں کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔

شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ مذاکرات کے باوجود معاملہ حل نہ ہوسکا اور حکومت کی نظر میں پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں سنجیدگی نہیں دکھائی گئی۔ تاہم وزیراعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت اب بھی بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ احتجاج، دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست کا براہ راست اثر ملکی معیشت پر پڑ سکتا ہے، طویل احتجاجی سرگرمیوں سے کاروباری سرگرمیاں، صنعتی پیداوار، مینوفیکچرنگ اور برآمدات متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے، جبکہ سڑکوں کی بندش سے فیکٹریوں اور دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر انجینئرز، مزدور اور دیگر کارکن وقت پر اپنی فیکٹریوں اور کام کی جگہوں تک نہ پہنچ سکیں تو اس کا نقصان کسی ایک جماعت یا ادارے کو نہیں بلکہ پوری قومی معیشت کو ہوتا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے گزشتہ اڑھائی برس کے دوران ملکی معیشت کو استحکام کی جانب لانے کے لیے سخت فیصلے کیے اور مسلسل محنت کی، اب معیشت میں بہتری اور ترقی کا سفر شروع ہوا ہے، اس لیے ملک کو دوبارہ سیاسی احتجاج اور دھرنوں کے باعث معاشی نقصان کی طرف نہیں لے جایا جاسکتا۔

وزیراعظم نے کہا کہ ملکی ترقی کا پہیہ کسی صورت دوبارہ روکنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ ملک کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے احتجاج اور لانگ مارچ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حل کریں۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت پی ٹی آئی سے بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن قانون کی عمل داری بھی برقرار رہے گی، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے جان و مال کا تحفظ کرے اور ملک میں امن و امان برقرار رکھے۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی اختلافات جمہوری نظام کا حصہ ہیں اور انہیں بات چیت کے ذریعے حل کیا جاسکتا ہے، تاہم کسی بھی سیاسی سرگرمی کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال خراب ہونے یا عام شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہونے کی صورت میں ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو محنت، امانت اور دیانت کے ساتھ آگے لے کر جانا ہے، ملک کو درپیش معاشی اور دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سیاسی استحکام، قومی یکجہتی اور اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے۔

کشمیر چوک منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ منصوبے کی تکمیل اور افتتاح عوام کے لیے خوش آئند ہے، سڑکوں، پلوں اور انڈر پاسز جیسے منصوبوں کا مقصد شہریوں کو بہتر سفری سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا قیمتی وقت بچانا بھی ہے۔

وزیراعظم نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ منصوبے پر تیزی سے کام مکمل کیا گیا، مقررہ مدت میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے دن رات محنت، عزم اور جذبے کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ شہریوں کو اپنے گھروں سے تعلیمی اداروں، دفاتر اور فیکٹریوں تک محفوظ اور آسان راستوں کی ضرورت ہے۔ بچوں کو تعلیم کے لیے، نوجوانوں کو روزگار کے لیے اور مزدوروں کو اپنی فیکٹریوں تک بروقت پہنچنے کے لیے بہتر انفرااسٹرکچر درکار ہے۔

وزیراعظم کے مطابق سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کے بنیادی ڈھانچے میں بہتری صرف سفری سہولت تک محدود نہیں بلکہ اس کے براہِ راست اثرات معاشی سرگرمیوں، روزگار، کاروبار اور شہری زندگی پر بھی پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں معاشی اور سماجی ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مسلسل کام کر رہی ہے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل اسی کوشش کا حصہ ہے۔

وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر سیاسی قوتوں پر زور دیا کہ ملک کے مفاد میں اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے، پاکستان کی ترقی اور استحکام کے لیے سیاسی کشیدگی کم کرنا، معیشت کو مضبوط بنانا اور عوام کو امن و سکون فراہم کرنا ضروری ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ حکومت بات چیت کے ذریعے مسائل کے حل کے لیے تیار ہے، تاہم عوام کے جان و مال کا تحفظ، ملکی امن و امان اور ریاستی رٹ برقرار رکھنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے حکومت، سیاسی جماعتوں اور عوام کو اجتماعی طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔