اسلام آباد میں نیوز کانفرنس میں طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کے آخری وقت وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی جانب سے جان بوجھ کر شرائط سامنے رکھی گئیں۔ دہشتگردی سے متعلق معاملات پر اتفاق کے بعد سیاسی امور پر بات چیت آگے بڑھی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے روز وفاقی وزیر داخلہ نے دہشتگردی کے معاملے پر حکومت کا مؤقف پیش کیا، جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کے نیشنل ایکشن پلان میں تعاون اور دہشتگردی کے خلاف اقدامات سے متعلق بھی حکومت نے اپنا مؤقف واضح کیا۔
وزیر مملکت نے کہا کہ گزشتہ چند برس کے دوران خیبرپختونخوا حکومت کی دہشتگردی کے خلاف اقدامات میں عدم دلچسپی رہی، جبکہ صوبائی حکومت نے سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کیے گئے وعدے بھی پورے نہیں کیے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کے پہلے روز بنیادی معاہدے کے ڈھانچے پر قریباً اتفاق ہوگیا تھا، جبکہ سیاسی نکات اور دہشتگردی سے متعلق امور پر بھی اتفاق رائے ہوگیا تھا۔ اگلے روز مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ اپوزیشن رہنما پشاور گئے جہاں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور دیگر سینئر رہنماؤں سے ملاقات کی۔ ملاقات کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے دہشتگردی سے متعلق نکات پر دوبارہ یقین دہانی حاصل کی اور مذاکراتی ٹیم پارٹی کی رائے اور یقین دہانی کے بعد اگلے روز دوبارہ مذاکرات میں شریک ہوئی۔
وزیر مملکت کے مطابق مذاکرات سے ایک رات قبل وزیر داخلہ نے اپوزیشن رہنماؤں کو فون کرکے خیبرپختونخوا حکومت کے نمائندے یا وزیراعلیٰ کو مذاکرات میں شامل کرنے کا کہا، تاہم اپوزیشن رہنماؤں نے مذاکرات میں مکمل اختیار رکھنے کی یقین دہانی کرائی، پہلے روز ہی مذاکرات کے بنیادی نکات پر اپوزیشن کو مکمل اختیار حاصل تھا۔
طلال چوہدری نے کہا کہ پشاور میں ملاقات کے بعد اپوزیشن نے دہشتگردی سے متعلق نکات پر 100 فیصد اتفاق کی یقین دہانی کرائی اور وفاقی حکومت کے تمام نکات سے اتفاق کیا۔ وزیر داخلہ نے وزیراعظم کو بھی آگاہ کیا کہ خیبرپختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی دہشتگردی کے معاملے پر متفق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر داخلہ بعد ازاں لاہور پہنچے اور وزیراعظم سے ملاقات کرکے مذاکرات میں ہونے والی پیشرفت سے آگاہ کیا، جبکہ دہشتگردی سے متعلق نکات پر وزیر داخلہ نے بعد میں ٹویٹ بھی کیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی سیکیورٹی اور دہشتگردی کا خاتمہ حکومت کے لیے سب سے اہم ہے، اپوزیشن کو جتنی سیاسی اسپیس دی جاسکتی ہے دی جانی چاہیے، تاہم سیاسی فائدہ کسی بھی جماعت کو ملے، ملکی سلامتی پر سمجھوتا نہیں ہوسکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے مشکل فیصلوں کی سیاسی قیمت ادا کی گئی، اگر دہشتگردی ختم ہوتی ہے اور سیاسی فائدہ اپوزیشن کو ملتا ہے تو انہیں اس پر کوئی جھجک نہیں، تاہم دہشتگردی کے خاتمے پر ہر صورت مکمل اتفاق ہونا چاہیے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات کے دوسرے روز دہشت گردی کے معاملے پر اتفاق ہوچکا تھا، اگر کوئی اپوزیشن رہنما اس اتفاق کی تردید کرتا ہے تو وہ سچ بتائے، دوسرے روز پہلے ڈرافٹ میں تمام سیاسی معاملات بھی شامل کیے گئے تھے، جن میں بانی پی ٹی آئی کی صحت، ملاقاتیں اور پی ٹی آئی رہنماؤں کے مقدمات شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سمجھ رہی تھی کہ میثاق جمہوریت کی جانب بڑا بریک تھرو ہونے جارہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیے پر پی ٹی آئی کو ساتھ لانا حکومت کے لیے بڑی کامیابی تھی۔ سیاسی طور پر کوئی جماعت آگے نکل جائے، حکومت کے لیے اس کی کوئی اہمیت نہیں، اصل مقصد ملک کی سلامتی ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ مذاکرات کا پہلا ڈرافٹ رات 9 بجے کے قریب فائنل ہوا، جس کے بعد وزیر داخلہ ڈرافٹ لے کر وزیراعظم اور صدر مملکت سے ملاقات کے لیے روانہ ہوئے، پہلے ڈرافٹ تک مذاکرات میں سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا اور آخری وقت تک چند الفاظ کے سوا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
طلال چوہدری کے مطابق مذاکرات کے آخری مرحلے میں اپوزیشن نے الگ کمرے میں بیٹھ کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سے رابطہ کیا۔ اپوزیشن رہنما باہر آئے تو وہ حکومت کے نمائندوں سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے، بعد ازاں اتفاق رائے نہ ہونے پر اپوزیشن نے حکومت کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بیانیہ کسی ایک جماعت کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کسی صوبے یا قوم کا نہیں بلکہ پاکستان کا قومی منصوبہ ہے، جبکہ نیشنل ایکشن پلان ٹو بانی پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بھی بنایا گیا تھا، دہشت گردی کے خلاف قومی اتفاق رائے پاکستان کی سیکیورٹی اور استحکام کے لیے ضروری ہے اور نیشنل ایکشن پلان پاکستان کے آئین اور قومی سلامتی سے جڑا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل روز شہدا کے جنازوں کو کندھا دیتے ہیں، شہدا کے جنازے اٹھانا حکومت کے لیے سب سے مشکل کام ہے۔ ہم 26 کروڑ پاکستانیوں کی جنگ لڑ رہے ہیں، اس لیے دہشت گردی کے خلاف متفقہ قومی مؤقف ضروری ہے۔
کے پی کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ اگر خیبرپختونخوا میں صرف پی ٹی آئی کے لیے سیاسی سرگرمیاں محفوظ ہوں تو یہ قابل قبول نہیں۔ عام شہری کاروبار، تعلیم اور سیاسی سرگرمیاں کرنے میں خوف محسوس کرتے ہیں، جبکہ دہشت گردی کے باعث سیاسی جماعتوں کے لیے انتخابی سرگرمیاں بھی مشکل ہوگئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے بعد ڈرون کے استعمال پر سوال اٹھانا درست نہیں، افغانستان سے سیکیورٹی فورسز پر حملوں کے لیے ڈرون بھیجے جانے کے واقعات ہوئے ہیں، اور اگر سیکیورٹی فورسز پر حملے ہوں تو دہشت گردی کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔
طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات میں پاکستان کو متفقہ بیانیہ مل رہا تھا جبکہ سیاسی فائدہ پی ٹی آئی کو مل رہا تھا، تاہم پاکستان کے لیے سب سے بڑا فائدہ دہشت گردی کے خلاف متفقہ بیانیہ تھا، اس بار جو مارچ نکلا، اس کے بعد پاکستان میں مارچ نہیں ہوگا، مارچ سے نمٹنے کے لیے سیاسی، آئینی سمیت ہر طرح کا انتظام کیا گیا ہے، جبکہ مارچ کو کامیاب بنانے کی کوشش کرنے والے لوگوں کو سب جانتے ہیں۔
طلال چوہدری نے کہا کہ ریاست کی رٹ ہر صورت قائم ہوگی اور جرائم و انتشار کا خاتمہ کیا جائے گا۔ ریاست کو قانون کی عملداری یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کرنا پڑتے ہیں، ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ریاست کا فیصلہ کسی ایک جماعت کے خلاف نہیں بلکہ سب کے لیے یکساں ہوگا۔ چاہے پی ٹی آئی ہو یا کوئی اور جماعت، ریاستی قانون سب پر یکساں لاگو ہوگا۔ قانون کی عملداری اور ریاستی رٹ کا فیصلہ کسی سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ ریاست کا ہے۔
وزیر مملکت نے کہا کہ دہشت گردی کا معاملہ پہلے ہی طے ہوچکا تھا، اس کے بعد سیاسی معاملات پر بات ہوئی۔ سیاسی معاملات میں چار، پانچ تبدیلیاں بھی کی گئیں اور حکومت نے اپوزیشن کو توقع سے زیادہ سیاسی اسپیس دی، جبکہ سیاسی جماعتوں کے لیے کئی معاملات میں گنجائش پیدا کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مطالبات تسلیم ہونے کے بعد اپوزیشن کے پاس مذاکرات سے نکلنے کا کوئی جواز نہیں تھا، تاہم اپوزیشن مذاکرات سے نظریں جھکا کر نکل گئی۔
طلال چوہدری نے کہا کہ مذاکرات اور سیاسی حل ہمیشہ حکومت کی پہلی ترجیح رہے ہیں اور پارلیمنٹ میں بیٹھ کر معاملات حل کرنا بھی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ہماری کبھی انا آڑے نہیں آئی، اپوزیشن میں بھی مذاکرات کی پیشکش کی، کیونکہ ہماری انا نہیں بلکہ پاکستان سب سے مقدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم آج بھی اپوزیشن کے پاس جاکر مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم لانگ مارچ اور دہشت گردی کے معاملے پر واضح شرائط موجود ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پر 100 فیصد عملدرآمد ضروری ہے اور یہ منصوبہ بھی انہی کے دور حکومت میں بنایا گیا تھا۔







