فل کورٹ ریفرنس میں سپریم کورٹ کے 9 ججز اسلام آباد سے شریک ہوئے، جبکہ کراچی رجسٹری سے 4 اور لاہور رجسٹری سے 3 ججز نے ویڈیو لنک کے ذریعے تقریب میں شرکت کی۔
تقریب کے دوران ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان کا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا، جس میں جسٹس مسرت ہلالی کی عدالتی خدمات، پیشہ ورانہ دیانت اور قانون کی بالادستی کے لیے ان کے کردار کو سراہا گیا۔
پیغام میں کہا گیا کہ جسٹس مسرت ہلالی نے پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اہم سنگ میل عبور کیے۔ وہ پشاور ہائیکورٹ کی پہلی خاتون چیف جسٹس رہیں اور اپنے عدالتی کیریئر کے دوران متعدد اہم اور آئینی نوعیت کے مقدمات میں نمایاں فیصلے کیے، جنہوں نے ملکی عدالتی نظام میں اہم نظائر قائم کیے۔
فل کورٹ ریفرنس میں ان کے ان فیصلوں کا بھی ذکر کیا گیا جنہیں قانونی حلقوں میں غیر معمولی اہمیت حاصل رہی۔ ان میں فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق مقدمہ بھی شامل ہے، جس میں انہوں نے ٹرائل روکنے کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کی حمایت کی، جبکہ بعد ازاں اس معاملے میں دائر انٹرا کورٹ اپیل کے دوران حکم امتناع جاری کرنے کی بھی مخالفت کی۔
تقریب میں اس امر کا بھی حوالہ دیا گیا کہ سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے افراد کو اپیل کا حق دینے کی ہدایت جاری کی، جسے ملکی عدالتی نظام میں اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
جسٹس مسرت ہلالی کے خاندانی قوانین سے متعلق ایک اہم فیصلے کا بھی ذکر کیا گیا، جس میں انہوں نے قرار دیا تھا کہ تنسیخِ نکاح کا دعویٰ قانونی طور پر خلع کے دعوے میں تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ اس فیصلے کو فیملی لا کے تناظر میں ایک اہم عدالتی نظیر تصور کیا جاتا ہے۔
فل کورٹ ریفرنس کے شرکا نے جسٹس مسرت ہلالی کی عدالتی خدمات، پیشہ ورانہ صلاحیت، آئین و قانون سے وابستگی اور انصاف کی فراہمی کے لیے ان کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔







