وزیراعظم شہباز شریف سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں ملک میں جاری مون سون بارشوں، سیلابی صورتحال اور متاثرہ علاقوں میں جاری امدادی سرگرمیوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم آفس کے مطابق ملاقات میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان رابطہ مزید مؤثر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

وزیراعظم نے این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں کو مزید تیز کیا جائے اور متاثرین کو خوراک، رہائش، طبی سہولیات اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی میں کسی قسم کی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

شہباز شریف نے متعلقہ صوبائی اداروں اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کے ساتھ مسلسل اور مؤثر رابطہ برقرار رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اور صوبائی ادارے مل کر متاثرہ آبادی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کریں۔

نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

وزیراعظم نے نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو سراہا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ جدید ٹیکنالوجی اور دستیاب ڈیٹا کو استعمال کرتے ہوئے ممکنہ سیلابی صورتحال کی بروقت نشاندہی اور متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کی مؤثر نگرانی کی جائے۔

وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بارشوں اور سیلاب کے حوالے سے موصول ہونے والی معلومات متعلقہ اداروں تک بروقت پہنچائی جائیں تاکہ جانی و مالی نقصان کو کم سے کم کیا جاسکے۔

چیئرمین این ڈی ایم اے کی وزیراعظم کو بریفنگ

چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر ملک نے وزیراعظم کو ملک کی مجموعی موسمیاتی صورتحال اور مون سون بارشوں کے باعث پیدا ہونے والی سیلابی صورتحال سے آگاہ کیا۔

انہوں نے مختلف علاقوں میں جاری امدادی کارروائیوں اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ دی۔

چیئرمین این ڈی ایم اے نے بتایا کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جارہی ہے۔

انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ وفاقی حکومت کے تعاون سے خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں این ڈی ایم اے کی امدادی کارروائیاں جاری رہیں گی

متاثرین کی بحالی پر بھی توجہ

ملاقات میں صرف ہنگامی امداد ہی نہیں بلکہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے اقدامات پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔

حکام کے مطابق متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، ضروری اشیائے خورونوش کی فراہمی اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے متعلقہ ادارے اقدامات کررہے ہیں۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ متاثرہ شہریوں کو تنہا نہ چھوڑا جائے اور امدادی کارروائیوں کے دوران زمینی حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری فیصلے کیے جائیں۔

انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر حساس علاقوں کی مسلسل نگرانی کی جائے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اداروں کو مکمل طور پر تیار رکھا جائے۔

وفاقی و صوبائی اداروں میں رابطے پر زور

وزیراعظم نے واضح کیا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے این ڈی ایم اے کو ہدایت کی کہ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے امدادی سرگرمیوں کو مربوط بنایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی اولین ترجیح مشکل کی اس گھڑی میں متاثرہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنا اور ان کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی کہ بارشوں اور سیلاب سے پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں عوام کو بروقت آگاہ کیا جائے تاکہ شہری احتیاطی تدابیر اختیار کرسکیں

ملاقات کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امداد اور بحالی کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کرے گی اور صورتحال معمول پر آنے تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھی جائیں گی۔