گجرات میں الخدمت فاؤنڈیشن کے بنو قابل پروگرام کی پہلی گریجویشن تقریب منعقد ہوئی، جس میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ریاست اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی اور اشرافیہ نے معاشرے کو یرغمال بنا رکھا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی، جاگیرداروں اور بڑے سرمایہ داروں پر مشتمل طبقہ زراعت، معیشت اور دیگر شعبوں پر قابض ہے، جس کے باعث غریب اور متوسط طبقہ استحصال کا شکار ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے ملک کے تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں پونے تین کروڑ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جب کہ پنجاب میں ایک کروڑ 18 لاکھ بچے تعلیم حاصل نہیں کر رہے۔

انہوں نے کہا کہ پنجاب کے 70 فیصد سرکاری اسکولوں میں واش رومز کی سہولت موجود نہیں اور نویں جماعت کے امتحانات میں 52 فیصد طلبہ فیل ہوئے۔ سندھ میں اسکولوں کی صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب ہے، جب کہ حکومتی کارکردگی اشتہارات میں ترقی دکھانے تک محدود ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ تعلیم عوام کا بنیادی حق ہے، خیرات نہیں، اور ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کو مفت اور معیاری تعلیم ملنی چاہیے۔ ملک میں تعلیم، مہنگائی اور زراعت جیسے حقیقی مسائل پر سیاسی جماعتیں مؤثر آواز نہیں اٹھا رہیں۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ پنجاب میں 11 ہزار اسکول فروخت کیے جا چکے ہیں، جب کہ ہدف 25 ہزار اسکولوں تک پہنچنے کا ہے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔

مزید پڑھیں: حافظ نعیم الرحمان کا پارلیمانی جماعتوں کو خط، پیٹرولیم لیوی کا اختیار حکومت سے واپس لینے کا مطالبہ

حافظ نعیم الرحمان نے بتایا کہ نوجوانوں کو مایوسی سے نکالنے کے لیے بنو قابل پروگرام کا آغاز چار سال قبل کراچی سے کیا گیا تھا۔ الخدمت نوجوانوں کو مفت کورسز، ہنر سیکھنے اور اپنا کام شروع کرنے کے مواقع فراہم کرے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان مہارت حاصل کریں، جماعت اسلامی اور الخدمت ان کی معاونت کریں گے۔ انہوں نے کھیلوں میں نوجوانوں کو آگے بڑھانے کے لیے الخدمت کے زی کنیکٹ پروگرام کا بھی ذکر کیا۔