انڈیا میں نوجوانوں کی احتجاجی تحریک ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) کے بانی ابھجیت دپکے کو جمعے کے روز نئی دہلی میں ایک احتجاجی مارچ سے قبل پولیس نے حراست میں لے لیا۔

عالمی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق دیپکے اپنی گاڑی کی جانب جا رہے تھے کہ پولیس اہلکاروں نے انہیں گھیر کر پولیس گاڑی میں بٹھا لیا۔ ان کی جماعت نے کنوٹ پلیس کے علاقے میں انڈین قومی پرچم لہرانے کے لیے اجتماع کی اپیل کی تھی، تاہم پولیس نے مارچ کے انعقاد پر پہلے ہی انتباہ جاری کر دیا تھا۔

حکام نے سینٹرل پارک کو بھی دو روز کے لیے بند کردیا، جبکہ علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اور نیم فوجی اہلکار تعینات کیے گئے۔

واضح رہے کہ کاکروچ جنتا پارٹی انڈین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جماعت کا الزام ہے کہ انتخابی فہرستوں پر نظرثانی کے عمل سے حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچایا جا رہا ہے۔

اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے تحت ووٹر فہرستوں سے 13 کروڑ سے زائد نام نکالے جانے کے خدشات ہیں، جس سے اہل ووٹرز کے حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، الیکشن کمیشن اور انڈین حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں۔

یہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں دیپکے کی دوسری حراست ہے۔ گزشتہ ہفتے بھی انہیں دہلی پہنچنے پر طیارے سے اتار کر حراست میں لیا گیا تھا، جب کہ تحریک کے دیگر منتظمین سورَو داس اور آشوتوش رانکا کو بھی گرفتار کیا گیا۔

بعد ازاں دپکے سمیت تین رہنماؤں کو رہا کردیا گیا، تاہم داس اور رانکا کو ایک ممنوعہ احتجاجی مقام پر جانے کے بعد پانچ روز کے لیے عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ جمعے کا مارچ جزوی طور پر ان رہنماؤں سے اظہارِ یکجہتی کے لیے بھی منعقد کیا جا رہا تھا۔

مزید پڑھیں: ’آپ انڈین نہیں، احتجاج کا حق نہیں‘، اداکار عمران خان کو انڈیا سے نکل جانے کا کیوں کہا گیا؟

پولیس نے مارچ کی اجازت نہ دینے کے جواز میں ٹریفک، کاروباری سرگرمیوں اور ہنگامی گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہونے کے خدشات کا حوالہ دیا، جب کہ ماضی کے احتجاج کے دوران تشدد اور املاک کو نقصان پہنچنے کے الزامات بھی عائد کیے۔

دوسری جانب تحریک کا مؤقف ہے کہ قومی پرچم لہرانا جرم نہیں۔ دیپکے کی حراست کی وجوہات پولیس نے فوری طور پر عوامی طور پر واضح نہیں کیں۔ اس سے قبل احتجاج کے دوران صحافیوں اور طلبہ کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جس پر پولیس کارروائی اور پُرامن احتجاج کے حق سے متعلق سوالات اٹھے ہیں۔