تھانہ آغا میر جانی شاہ میں ایس ایچ او ریاض خان کی مدعیت میں درج مقدمے کے مطابق شکایات کے باوجود عمارت کی مرمت کے لیے مبینہ طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔
ایف آئی آر کے مطابق حادثہ 15 اکتوبر 2026 کو صبح 9 بج کر 5 منٹ پر پیش آیا، جب اسکول کی دوسری منزل پر واقع نرسری کلاس اور گراؤنڈ فلور پر جماعت دوم کے کمروں کی چھتیں گر گئیں۔ دونوں کلاسوں میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے۔
پولیس رپورٹ میں ابتدائی طور پر 30 بچوں اور ایک خاتون ٹیچر کی ہلاکت جبکہ 52 افراد کے زخمی ہونے کا ذکر ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق دیگر متاثرین سے متعلق معلومات کی تصدیق بھی جاری تھی۔
پولیس نے مبینہ غفلت، ناقص تعمیر اور بچوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کے تحت متعلقہ مالکان اور ذمہ دار افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔ مقدمے میں تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 322، 148 اور 149 شامل کی گئی ہیں۔
اسکول کی 16 مرلے اراضی 2024 میں لیز پر حاصل کی گئی
ایف آئی آر کے مطابق اسکول کی اراضی کے مالکان وحید اور جاوید، ساکنانِ دیر کالونی، ہیں۔ مفتی خان محمد ولد تاج محمد، ساکن سعید آباد، دیر کالونی، اور دیگر شیئر ہولڈرز نے 2024 میں یہ اراضی لیز پر حاصل کی تھی، جس کے بعد ٹھیکیدار ارشاد زمان کے ذریعے اسکول کی عمارت تعمیر کرائی گئی۔
مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عمارت کی تعمیر میں ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا، حالانکہ ذمہ داران کو اس کے ممکنہ خطرات کا علم تھا یا انہیں ان کا اندازہ ہونا چاہیے تھا۔ تاہم، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور ذمہ داری کا حتمی تعین تفتیش مکمل ہونے کے بعد ہوگا۔
بچوں کی شکایات کے باوجود مرمت کیوں نہ ہوئی؟
ایف آئی آر کا اہم پہلو عمارت کی مبینہ خستہ حالی اور اس حوالے سے پہلے سے موجود شکایات ہیں۔ پولیس رپورٹ کے مطابق بچوں نے متعدد مرتبہ مالکان اور شیئر ہولڈرز کو عمارت کی دیواروں اور چھتوں کی خراب حالت سے آگاہ کیا تھا اور ان کے گرنے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔
مقدمے کے مطابق ان شکایات پر مبینہ طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ اب تفتیش میں یہ جانچ اہم ہوگی کہ شکایات کب اور کن افراد کو موصول ہوئیں، عمارت کا کسی ماہر یا سرکاری ادارے سے معائنہ کرایا گیا تھا یا نہیں، اور بچوں کی حفاظت کے لیے بروقت اقدامات کیوں نہیں کیے گئے۔
ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے بچوں کو نکالا
ایف آئی آر کے مطابق واقعے کی اطلاع ملنے پر ایس ایچ او ریاض خان پولیس نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ ریسکیو 1122، سرکاری و نجی ایمبولینسوں اور دیگر امدادی ٹیموں کو بھی طلب کیا گیا۔
اعلیٰ پولیس افسران نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی، جبکہ ملبے سے نکالے گئے بچوں اور اسکول کے عملے کو طبی امداد کے لیے مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
پولیس رپورٹ میں زمین کے مالکان، لیز لینے والوں، شیئر ہولڈرز اور تعمیراتی ٹھیکیدار کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے مبینہ غفلت کو جانی نقصان کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں واقعے کو قتل بالسبب سے تعبیر کرتے ہوئے متعلقہ افراد کے خلاف کارروائی کا ذکر بھی موجود ہے۔
مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیش سب انسپکٹر ثنا اللہ خان کے سپرد کی گئی ہے۔
اس حادثے نے نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کے تعمیراتی معیار، حفاظتی معائنوں اور بچوں کی شکایات پر کارروائی کے نظام سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تفتیش کے دوران عمارت کے نقشے، تعمیراتی معیار، اجازت ناموں، حفاظتی معائنے اور شکایات کے ریکارڈ کی جانچ کی جائے گی تاکہ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔







