انگلینڈ کے فاسٹ بولر اولی رابنسن نے میچ کی پہلی ہی گیند پر اذان اویس کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کیا، جس کے بعد پاکستان کی بیٹنگ مشکلات سے دوچار ہوگئی۔
سیریز کا دوسرا ٹیسٹ 27 اگست سے تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا، جبکہ تیسرا اور آخری ٹیسٹ 9 ستمبر سے برمنگھم کے ایجبیسٹن گراؤنڈ میں شروع ہوگا۔
پاکستانی ٹیم کو پہلے ٹیسٹ سے قبل بڑا دھچکا اس وقت لگا جب مستقل کپتان بابر اعظم پریکٹس میچ کے دوران ہاتھ پر گیند لگنے کے باعث پہلے ٹیسٹ سے باہر ہوگئے۔ ان کی غیر موجودگی میں سلمان علی آغا پاکستان کی قیادت کر رہے ہیں۔
سلمان علی آغا اس سے قبل محدود اوورز کی کرکٹ میں قومی ٹیم کی قیادت کرچکے ہیں، تاہم ہیڈنگلے ٹیسٹ ان کے ٹیسٹ کپتان کی حیثیت سے پہلے میچ کے طور پر کھیلا جا رہا ہے۔
پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز 1-1 سے برابر کرنے کے بعد انگلینڈ پہنچی، جبکہ دورے سے قبل تین روزہ پریکٹس میچ میں سعود شکیل کی سنچری کی بدولت قومی ٹیم نے کامیابی حاصل کی۔
پاکستان کے ریڈ بال ہیڈ کوچ سرفراز احمد نے پریکٹس میچ میں ٹیم کی کارکردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیٹنگ اور بولنگ دونوں شعبوں میں تیاریاں مکمل ہیں اور ٹیم کے حوصلے بلند ہیں۔
سرفراز احمد نے سلمان علی آغا کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم مینجمنٹ کو ان کی صلاحیتوں پر مکمل بھروسہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کی انجری بدقسمتی ہے، تاہم امید ہے کہ وہ دوسرے ٹیسٹ سے قبل مکمل فٹ ہوکر ٹیم میں واپس آجائیں گے۔
پاکستان کا انگلینڈ کی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ میں ماضی کا ریکارڈ بھی قابل ذکر ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اب تک 92 ٹیسٹ میچز کھیلے جاچکے ہیں، جن میں انگلینڈ نے 30 اور پاکستان نے 23 میچز جیتے، جبکہ 39 مقابلے ڈرا ہوئے۔
ہیڈنگلے میں جاری پہلا ٹیسٹ دونوں ٹیموں کے لیے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے تناظر میں بھی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ انگلینڈ اپنے ہوم گراؤنڈ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سیریز کا آغاز کامیابی سے کرنے اور پاکستان ابتدائی میچ میں مضبوط واپسی کی کوشش کر رہا ہے۔







