ایف آئی اے امیگریشن حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش کے دوران سامنے آنے والی معلومات سے معلوم ہوا کہ مذکورہ رقم مبینہ طور پر غیر رسمی اور غیر مجاز ذرائع سے پاکستان سے متحدہ عرب امارات منتقل کی جا رہی تھی۔ دونوں مسافر محمد عابد اور باسط نوایر درست پاکستانی پاسپورٹ اور متحدہ عرب امارات کے ویزوں پر سفر کر رہے تھے۔
حکام کے مطابق امیگریشن کے دوران دونوں مسافروں کو مزید تصدیق اور پروفائلنگ کے لیے متعلقہ افسران کے سامنے پیش کیا گیا۔ دورانِ پوچھ گچھ محمد عابد نے بتایا کہ اس کے قبضے میں 5 ہزار امریکی ڈالر موجود ہیں، تاہم وہ غیر ملکی کرنسی کی خریداری سے متعلق مطلوبہ ایکسچینج رسید پیش نہ کرسکا۔ اس نے بتایا کہ یہ رقم اسے باسط نوایر نے فراہم کی تھی۔
بعد ازاں باسط نوایر کو بورڈنگ گیٹ سے طلب کرکے پوچھ گچھ کی گئی، تاہم وہ بھی غیر ملکی کرنسی کی خریداری سے متعلق متعلقہ ایکسچینج رسید پیش نہ کرسکا۔ تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے 15 ہزار 100 امریکی ڈالر جبکہ محمد عابد کے قبضے سے 5 ہزار امریکی ڈالر برآمد ہوئے۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق مزید تفصیلی پوچھ گچھ کے دوران محمد عابد نے بیان دیا کہ باسط نوایر نے اسے یہ رقم دبئی میں موجود ایک شخص تک پہنچانے کے لیے دی تھی، جس کا نام منصور بتایا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران باسط نوایر نے مزید انکشاف کیا کہ اسے مختلف 2 افراد، عاطف اور احسن، کی جانب سے مبینہ طور پر تقریباً 2 لاکھ امریکی ڈالر موصول ہوئے تھے۔ یہ رقم مبینہ طور پر منصور کی ہدایات پر فراہم کی گئی تھی۔
ایف آئی اے امیگریشن حکام کے مطابق باسط نوایر کے بیان کے تحت مذکورہ رقم میں سے تقریباً 5 ہزار امریکی ڈالر پہلے احسن کے ذریعے دبئی میں منصور کو دیے گئے، جبکہ تقریباً 3 ہزار امریکی ڈالر باسط نوایر اور سلطان کے ذریعے منتقل کیے گئے۔
حکام کے مطابق تقریباً 40 ہزار امریکی ڈالر ایک شخص زین کو فراہم کیے گئے جبکہ تقریباً 50 ہزار امریکی ڈالر مبینہ طور پر نبیل نامی شخص کو دیے گئے۔ باسط نوایر نے مزید بتایا کہ تقریباً 40 ہزار امریکی ڈالر اس کی رہائش گاہ پر موجود تھے، جبکہ ایئرپورٹ سے برآمد ہونے والی 25 ہزار 100 امریکی ڈالر کی رقم بھی مبینہ طور پر دبئی میں منصور کو پہنچائی جانی تھی۔
حکام کا کہنا ہے کہ دونوں مسافر مذکورہ 25 ہزار 100 امریکی ڈالر کی رقم کے حوالے سے بھی متعلقہ ایکسچینج رسید پیش کرنے میں ناکام رہے۔ ابتدائی معلومات اور بیانات سے معلوم ہوا کہ قابلِ ذکر مقدار میں غیر ملکی کرنسی مبینہ طور پر پاکستان سے دبئی منتقل کرنے کے لیے افراد کے ذریعے جسمانی طور پر بیرون ملک لے جائی جا رہی تھی، بجائے اس کے کہ رقم کو دستاویزی اور مجاز بینکنگ یا قانونی مالیاتی ذریعے سے منتقل کیا جاتا۔
ایف آئی اے امیگریشن کے مطابق دورانِ تفتیش مسافروں کے موبائل فونز کا بھی جائزہ لیا گیا، جس کے دوران متعدد ایسی چیٹس سامنے آئیں جو بادی النظر میں مالی لین دین، مبینہ غیر مجاز طریقوں سے رقوم کی منتقلی اور کسٹمز کلیئرنس سے متعلق معاملات سے منسلک معلوم ہوتی ہیں۔
حکام کے مطابق مذکورہ معلومات کی مزید تصدیق اور قانونی جانچ جاری ہے۔ صورتحال کے پیش نظر دونوں مسافروں کو آف لوڈ کرکے مزید قانونی کارروائی کے لیے ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل کراچی کے حوالے کردیا گیا۔
علاوہ ازیں باسط نوایر کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر کارروائی کرتے ہوئے ایف آئی اے نے اس کی رہائش گاہ سے مزید 30 ہزار امریکی ڈالر بھی برآمد کرلیے۔
حکام کے مطابق اس کارروائی میں مجموعی طور پر 55 ہزار 100 امریکی ڈالر برآمد کیے جاچکے ہیں، جن کی مالیت تقریباً ڈیڑھ کروڑ پاکستانی روپے بنتی ہے۔







