ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے جمعے کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک بیان میں کہا کہ اگر ایران کو پروازیں چلانے اور ایئرپورٹس کی سروسز حاصل کرنے پر پابندیوں کا سامنا رہا تو خطے کے کسی ملک کو بھی یہ سہولت حاصل نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام امریکا کی دشمنی پر مبنی پالیسیوں پر عمل درآمد میں اس کا ساتھ دینے والوں کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے پر ایران کی پالیسی بالکل واضح ہے کہ ’خطے میں پروازیں یا تو سب کے لیے کھلی ہوں گی یا پھر کسی کے لیے نہیں۔‘
محمد مخبر کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایرانی ایئرلائنز کی پروازوں پر پابندی عائد کی گئی اور انہیں ایئرپورٹس کی سروسز حاصل کرنے کی سہولت سے محروم کیا گیا تو خطے کے دیگر ممالک بھی ان سہولیات سے محروم رہیں گے۔
محمد مخبر کا بیان ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی کے حالیہ بیان سے ملتا جلتا ہے۔
محسن رضائی نے بدھ کو خبردار کیا تھا کہ اگر پڑوسی ممالک امریکا کی ایران کے خلاف پابندیوں کی مہم میں تعاون کریں گے تو یاد رکھیں کہ ان کے اپنے ایئرپورٹس بھی معمول کے مطابق کام نہیں کر سکیں گے۔ انہوں نے پڑوسی ممالک کو امریکی فوجی کارروائیوں میں بھی شامل نہ ہونے کی دھمکی دی تھی۔
واضح رہے کہ عمان، آذربائیجان اور جارجیا سمیت چند دیگر ممالک نے امریکی پابندیوں کے بعد ایرانی ایئرلائنز پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ حال ہی میں متحدہ عرب امارات نے بھی اپنے ایئرپورٹس پر ایرانی ایئرلائنز کی آمدورفت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
عراق نے بھی نجف، اربیل اور سلیمانیہ ایئرپورٹس پر ایران سے آنے والی پروازیں معطل کردی ہیں۔ اس پابندی کے بعد ایران کا پڑوسی ملک عراق کے ساتھ فضائی رابطہ بھی متاثر ہوا ہے۔
عراق میں واقع ایرانی سفارت خانے نے بھی اس معاملے پر ایک بیان میں کہا کہ ’اہلِ تشیع کے پہلے امام کا مزار نجف میں واقع ہے جہاں کا انٹرنیشنل ایئرپورٹ دنیا کے سب سے بڑے شیعہ ملک کے لیے بند کردیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے 8 ستمبر کو ایران کے ایوی ایشن سیکٹر سے منسلک 36 اداروں اور کمپنیوں کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایران کی ایوی ایشن انڈسٹری پر دباؤ بڑھانا ہے۔
امریکی حکام نے خبردار کیا تھا کہ ایرانی ایئرلائنز کو خدمات فراہم کرنے والے غیر ملکی ایئرپورٹس یا دیگر اداروں کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جب کہ انہیں امریکی ڈالر کے بینکنگ سسٹم سے بھی باہر کیا جاسکتا ہے۔







