امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ مجوزہ منصوبے کے تحت ایران کی اہم توانائی تنصیبات، جوہری مراکز، میزائلوں کے ذخائر اور ڈرونز سے متعلق تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف پہلوؤں پر کام کررہے ہیں، تاہم حملوں کے حتمی وقت، دائرہ کار اور اہداف کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف مختصر لیکن شدید فوجی کارروائی اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے اور تہران کو سفارتی مذاکرات میں رعایتیں دینے پر مجبور کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ اس منصوبے کا مبینہ مقصد ایران پر فوجی اور اقتصادی دباؤ بڑھا کر اسے اپنے جوہری پروگرام اور دیگر متنازع امور پر مذاکرات کے لیے آمادہ کرنا ہے۔
امریکی اخبار کے مطابق امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے رواں ہفتے اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے دوران ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں پر بھی بات چیت کی۔ رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی طیارے عراق کی فضائی حدود میں ممکنہ حملوں سے متعلق مشقیں کررہے ہیں، تاہم ان سرگرمیوں کی تفصیلات اور ان کا حتمی مقصد آزادانہ طور پر واضح نہیں ہوسکا۔
دوسری جانب ایک برطانوی اخبار نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے رواں ماہ کے آغاز میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی۔ ان رپورٹس کے سامنے آنے کے بعد خطے میں ممکنہ فوجی تصادم اور اس کے عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال پر اثرات سے متعلق خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے مبینہ منصوبے سے متعلق یہ تفصیلات میڈیا رپورٹس اور نام ظاہر نہ کرنے والے امریکی عہدیدار کے دعووں پر مبنی ہیں۔ تاحال دونوں ممالک کی جانب سے ان تمام دعوؤں اور مبینہ منصوبے کی مکمل سرکاری تصدیق سامنے آنے کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔







