ادارے کے مطابق ملزم پر اگست 2023 سے ستمبر 2026 کے دوران 50 لاکھ سے زائد امریکی ڈاک ٹکٹ فروخت کرنے کا الزام ہے، جب کہ اس معاملے میں مبینہ مالی فراڈ کی مالیت 35 ارب روپے بتائی جا رہی ہے۔
این سی سی آئی اے لاہور زون کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عاطف امیر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ تحقیقات کے دوران 16 بینک اکاؤنٹس کے استعمال کا انکشاف ہوا، جب کہ پنجاب، اسلام آباد اور سندھ سمیت مختلف علاقوں میں 35 مقامات پر چھاپے مارے گئے۔
ان کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم کی نقل و حرکت اور رابطوں کا سراغ لگانے کے لیے 122 کال ڈیٹیل ریکارڈز (سی ڈی آرز) کا تجزیہ کیا گیا، 120 سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اور ویڈیوز کا جائزہ لیا گیا، جب کہ ملزم کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے 10 روز تک لوکیٹر بھی فعال رکھا گیا۔
تحقیقات میں ملزم کے اہلِ خانہ کے بینک اکاؤنٹس کے مبینہ استعمال کا پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ این سی سی آئی اے کے مطابق مختلف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران 47 افراد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ تاہم 16 بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ہونے والے مالی لین دین، مبینہ فراڈ کی رقم کے تعین اور دیگر افراد کے ممکنہ کردار سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنا ابھی باقی ہیں۔
این سی سی آئی اے لاہور زون نے ایک الگ کارروائی میں لاہور کے ایک میگا کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 60 افراد کو گرفتار کرنے کا بھی بتایا ہے۔ گرفتار افراد میں 53 مرد اور 7 خواتین شامل ہیں۔
ادارے کے مطابق گرفتار افراد پر ٹیلی کام کمپنی کے نمائندے بن کر شہریوں کو دھوکا دینے اور آن لائن فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ کارروائی کے دوران 27 لیپ ٹاپ، 30 کمپیوٹر اور 60 موبائل فون بھی قبضے میں لیے گئے۔
اس کیس میں تحقیقات کا اہم پہلو یہ ہے کہ مبینہ طور پر ٹیلی کام کمپنی کی شناخت استعمال کرکے شہریوں کا اعتماد کیسے حاصل کیا جاتا تھا اور گرفتار افراد میں سے ہر ایک کا کیا کردار تھا۔
جعلی امریکی ڈاک ٹکٹوں کی آن لائن فروخت اور میگا کال سینٹر سے متعلق دونوں مقدمات میں تفتیش جاری ہے۔ پہلے کیس میں جعلی ویب سائٹ اور بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ہونے والے مبینہ مالی لین دین، جب کہ دوسرے میں ٹیلی کام کمپنی کی شناخت کے مبینہ غلط استعمال اور آن لائن فراڈ کے الزامات کی جانچ کی جا رہی ہے۔







