امریکی وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق ملک کا مجموعی سرکاری قرضہ اس وقت 40.39 ٹریلین ڈالر کے قریب ہے، جو اگست میں قرضے کے 40 ٹریلین ڈالر کی تاریخی حد عبور کرنے کے بعد محض دو ماہ میں تقریباً 1 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔

امریکی معاشی ماہرین اور کانگریشنل بجٹ آفس کی پیش گوئیوں کے مطابق اگر قرضوں کی یہی رفتار برقرار رہی تو آئندہ ایک عشرے کے دوران ملک کا قومی قرضہ بڑھ کر مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 120 فیصد سے بھی تجاوز کر جائے گا۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ امریکی وفاقی حکومت کا قرضہ پوری امریکی معیشت کی سالانہ پیداوار سے بھی زیادہ ہو جائے گا، جو ملک کی طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ امریکی حکومت اپنے اس قومی قرضے پر سود کی ادائیگیوں کی مد میں سالانہ ریکارڈ 1 ٹریلین ڈالر (1000 ارب ڈالر) سے زائد خرچ کر رہی ہے، جب کہ روزانہ کی بنیاد پر یہ رقم تقریباً 3 ارب ڈالر بنتی ہے، جو کہ امریکا کے سالانہ دفاعی اخراجات سے بھی زیادہ ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق سال 2020 کے بعد سے سود کی ادائیگیوں کے ان اخراجات میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے، جس کی بڑی وجہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافہ ہے۔

مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرضوں میں مسلسل اضافے کی بنیادی وجہ ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدن اور وفاقی اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا بڑا فرق (بجٹ خسارہ) ہے، جو کہ مالیاتی سال 2026 میں بڑھ کر تقریباً 2 ٹریلین (2000 ارب) ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

آزاد معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکی حکومت نے اپنے سرکاری اخراجات میں فوری کٹوتیاں نہ کیں یا ٹیکس کے نظام میں بنیادی اصلاحات متعارف نہ کروائیں، تو امریکا کا مجموعی قومی قرضہ اگلے چند سالوں (2030 تک) میں 50 ٹریلین ڈالر کی ہولناک سطح کو بھی چھو سکتا ہے۔