انتخابات کے نتائج آئندہ دو برس کے لیے امریکی کانگریس میں ڈیموکریٹک اور ریپبلکن جماعتوں کے درمیان طاقت کا توازن طے کریں گے۔ ان انتخابات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومتی کارکردگی اور مقبولیت پر عوامی رائے کے اظہار کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔
وسط مدتی انتخابات امریکی صدر کی چار سالہ مدت کے درمیان منعقد ہوتے ہیں۔ اگرچہ صدر کا نام بیلٹ پیپر پر شامل نہیں ہوتا، تاہم ان انتخابات کو عموماً وائٹ ہاؤس میں موجود صدر کی پالیسیوں اور کارکردگی پر عوامی رائے شماری سمجھا جاتا ہے۔
امریکی سیاسی تاریخ میں یہ رجحان نمایاں رہا ہے کہ وسط مدتی انتخابات میں صدر کی جماعت کو اکثر نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ سیاسی ماہرین اس رجحان کو ’مڈٹرم پینلٹی‘ یا ’صدارتی سزا‘ کہتے ہیں۔ 1946 سے 2022 تک ہونے والے 20 وسط مدتی انتخابات میں سے 18 مرتبہ صدر کی جماعت نے ایوانِ نمائندگان کی نشستیں کھوئیں۔ اس عرصے میں اوسطاً 26 نشستوں کا نقصان ہوا۔
اس روایت سے صرف 1998 میں سابق صدر بل کلنٹن کی ڈیموکریٹک جماعت اور 2002 میں جارج ڈبلیو بش کی ریپبلکن جماعت مختلف نتائج حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔
تاریخی اعداد و شمار کے مطابق 1946 کے بعد وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک جماعت نے اوسطاً 29 جبکہ ریپبلکن جماعت نے 23 نشستیں کھوئیں۔
ایوانِ نمائندگان میں سب سے بڑا نقصان 2010 میں سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ڈیموکریٹس کو اٹھانا پڑا، جب جماعت نے 64 نشستیں گنوا دیں اور ریپبلکنز نے ایوان کا کنٹرول حاصل کرلیا۔ دوسری جانب ریپبلکنز کو 1958 میں صدر ڈوائٹ آئزن ہاور کے دور میں 50 اور 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں 42 نشستوں کا نقصان ہوا۔
سینیٹ میں بھی صدر کی جماعت کو اکثر نشستوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ 1946 سے 2022 کے درمیان ہونے والے 20 وسط مدتی انتخابات میں سے 13 مرتبہ صدر کی جماعت نے سینیٹ کی نشستیں کھوئیں، تاہم ان میں سے صرف چھ انتخابات میں مخالف جماعت سینیٹ کا کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ سینیٹرز کی مدت چھ سال ہوتی ہے، اس لیے ہر دو سال بعد سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں پر انتخابات منعقد ہوتے ہیں۔
موجودہ انتخابی مقابلے میں ڈیموکریٹس کو ایوانِ نمائندگان کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے تین جبکہ سینیٹ میں اکثریت کے لیے چار اضافی نشستیں درکار ہیں۔ اگر سینیٹ میں دونوں جماعتوں کی نشستیں برابر ہوئیں تو نائب صدر جے ڈی وینس کا فیصلہ کن ووٹ ریپبلکنز کو برتری دے سکتا ہے۔
کانگریس کے کسی ایک ایوان میں بھی اکثریت حاصل کرنے والی مخالف جماعت صدر کے قانون سازی کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے، حکومتی معاملات کی تحقیقات کرنے اور اپنے آئینی اختیارات استعمال کرنے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔
اسی لیے ان انتخابات کے نتائج صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آئندہ دو برس کے سیاسی اور حکومتی ایجنڈے کے لیے اہمیت رکھتے ہیں۔







