پاکستان بینکس ایسوسی ایشن کی تقریب سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت استحکام سے پائیدار ترقی کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس سفر کو آگے لے جانے کے لیے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ضروری ہے، جدید مالیاتی ٹیکنالوجی ان اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوسکتی ہے، تاہم اس کے لیے مؤثر ضابطہ کاری اور نگرانی کا نظام بھی ناگزیر ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ڈیجیٹل اثاثوں کو مالیاتی نظام میں شامل کرنے کا مقصد محض نئی ٹیکنالوجی متعارف کرانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس سے حقیقی معاشی فوائد، کاروبار میں آسانی اور مالیاتی خدمات تک رسائی میں بہتری آنی چاہیے، ریگولیٹری نظام میں ڈیجیٹل اثاثوں کی مختلف اقسام اور ان سے وابستہ معاشی سرگرمیوں کو الگ الگ مدنظر رکھنا ہوگا تاکہ ہر شعبے کے لیے مناسب قواعد اور نگرانی کا طریقہ کار وضع کیا جاسکے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ ورچوئل اثاثہ جات ایکٹ 2026 کے تحت پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کے لیے قانونی فریم ورک قائم کیا گیا ہے۔ اس نظام کے تحت پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) ورچوئل اثاثہ خدمات فراہم کرنے والے اداروں کی لائسنسنگ اور نگرانی کی ذمہ دار ہوگی، قانونی ضابطہ کاری کے ذریعے اس شعبے میں شفافیت، ذمہ داری اور مالیاتی نظام کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
محمد اورنگزیب نے ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کے فروغ میں بینکوں کے کردار کو بھی اہم قرار دیا۔ ان کے مطابق بلاک چین نیٹ ورکس پر ادارہ جاتی صارفین کے لیے ڈپازٹ ٹوکنز کا استعمال مالیاتی جدت کی ایک عملی مثال ہے۔ اس طرح کی ٹیکنالوجی بینکوں کے موجودہ نظام کے ساتھ مربوط ہو کر مالیاتی لین دین کے نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے، تاہم اس کے لیے صارفین کے تحفظ اور ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے مؤثر انتظامات ضروری ہیں۔
وزیر خزانہ نے بینک فار انٹرنیشنل سیٹلمنٹس کے منصوبے ’اگورا‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے میں ٹوکنائزڈ بینک ڈپازٹس کے ذریعے سرحد پار ادائیگیوں کے امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس عمل میں مرکزی بینک کے ذخائر کے استعمال کو بھی زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات مستقبل میں بین الاقوامی ادائیگیوں کے نظام کو جدید بنانے اور مالیاتی لین دین کے طریقوں میں بہتری کے لیے اہم ثابت ہوسکتے ہیں۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کی ترقی کے ساتھ رقوم کا تحفظ، سائبر سیکیورٹی، خطرات کی شناخت اور ضابطہ کاری پر عمل درآمد بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بینکوں اور متعلقہ اداروں کو نئی ٹیکنالوجی اپناتے ہوئے مالیاتی نظام کے استحکام اور صارفین کے اعتماد کو برقرار رکھنا ہوگا۔
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان کا مقصد ایسی مالیاتی جدت کو فروغ دینا ہے جو معیشت کو مضبوط بنانے، کاروباری سرگرمیوں میں آسانی پیدا کرنے اور مالیاتی خدمات کے دائرہ کار کو وسیع کرنے میں مدد دے۔







