امریکی میڈیا اور خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق باراک اوباما نے ریاست اوہائیو کے شہر کلیولینڈ میں ڈیموکریٹک امیدواروں کی انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صدر نے کئی غلط فیصلے کیے، جن میں سب سے اہم ایسی جنگ شروع کرنا تھا جس کا کسی نے مطالبہ نہیں کیا تھا۔

اوباما نے کہا کہ ان کے دورِ صدارت میں ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ کیا گیا تھا، جس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا تھا۔ ان کے مطابق اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے میزائلوں کے استعمال کے بجائے سفارتکاری کا راستہ اختیار کیا گیا تھا۔

سابق امریکی صدر نے ٹرمپ انتظامیہ کے جنگ میں کامیابی کے دعوؤں پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود امریکی اتحادیوں اور فوجی اڈوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا، امریکی فوجی ہلاک ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جبکہ امریکی میزائلوں کے ذخائر پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔

اوباما کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کرنے کی صلاحیت نے اسے معاشی دباؤ ڈالنے کا موقع دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتِ حال کے نتیجے میں تیل اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس سے روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔

باراک اوباما کی جانب سے یہ تنقید ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں۔ اوباما ان دنوں ڈیموکریٹک امیدواروں کی حمایت میں انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔