خبررساں ادارے العربیہ کے مطابق گزشتہ دو روز کے دوران متعدد یمنیوں نے اس ماں سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا، جس نے حوثی حملوں میں اپنی بیٹی مشیرہ کے علاوہ اپنے 65 سالہ شوہر محمد قاسم علی عبداللہ النقیب کو بھی کھو دیا۔ یہ حملے ضلع صبر الموادم کے علاقے النیدانی کے گاؤں العدن میں کیے گئے تھے۔

رپورٹس کے مطابق خاتون نے اپنی بیٹی کی میت خود اٹھائی اور حوثیوں کے محاصرے کے باوجود اسے باعزت طریقے سے دفن کرنے پر اصرار کیا۔ دشوار گزار پہاڑی راستوں پر میت اٹھائے خاتون کی تصاویر سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیل گئیں۔

یمنیوں نے خاتون کے دکھ اور محاصرے کے باوجود اس کی ثابت قدمی کو سراہا۔ بعض افراد نے اس خاتون کا مجسمہ بنانے کی تجویز دی جسے ’استقامت کا مجسمہ‘ قرار دینے کی بات کی گئی، جب کہ بعض نے جبلِ صبر کا نام تبدیل کرکے ’جبل الصمود‘ یعنی ’استقامت کا پہاڑ‘ رکھنے کا مطالبہ بھی کیا۔

یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب آبادی کے لحاظ سے یمن کا تیسرا بڑا شہر تعز، ملک کے جنوب مغربی حصے میں جبلِ صبر کے دامن میں واقع ہے اور 2015 سے حوثی ملیشیا کے محاصرے کا سامنا کر رہا ہے۔

حوثیوں نے تعز کو دیگر صوبوں سے ملانے والی مرکزی شاہراہیں، جن میں صنعاء اور حدیدہ کی سڑکیں بھی شامل ہیں، بند کر رکھی ہیں، جس کے باعث شہریوں کو آمدورفت کے لیے متبادل اور دشوار گزار پہاڑی راستے استعمال کرنا پڑتے ہیں۔

محاصرے اور رسد کی گزرگاہوں کو نشانہ بنائے جانے کے باعث شہر میں صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہوئی ہے، جب کہ غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ اور ادویات و طبی سامان کی فراہمی بھی مشکل ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ یمن کی سرکاری افواج اور حوثی ملیشیا کے درمیان تعز، مارب، الجوف اور دیگر محاذوں پر جھڑپیں جاری ہیں۔ یہ لڑائی ’فجر الیمن‘ نامی آپریشن کے تحت جاری ہے، جسے یمن کی صدارتی قیادت کونسل نے ملک کے تمام علاقوں پر ریاستی اختیار بحال کرنے اور دارالحکومت صنعاء کو دوبارہ اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے شروع کیا تھا۔