حوثی تحریک کے زیرِ انتظام میڈیا ادارے المسیرہ کے مطابق صنعا اور اس کے نواحی علاقوں میں متعدد فضائی حملے کیے گئے۔ نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا کہ ایک حملے میں رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔
المسیرہ کے مطابق صنعا گورنری میں سیمنٹ فیکٹری کے مزدوروں کی رہائشی عمارت پر حملے میں چھ خواتین اور ایک بچہ بھی جاں بحق ہوئے، جب کہ تین افراد زخمی ہوئے۔
حوثی میڈیا نے مغربی یمن کے شہر مخا اور اس کے گردونواح میں بھی فضائی حملوں کی اطلاعات دی ہیں، جہاں تقریباً 20 حملوں کا دعویٰ کیا گیا۔ سعودی حکام کی جانب سے ان حملوں اور شہریوں کے جاں بحق ہونے کے دعووں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں کی جانب سے طائف اور بحیرۂ احمر کے ساحلی شہر ینبع کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو روک کر تباہ کر دیا گیا۔
اس سے قبل سعودی شہری دفاع نے مکہ مکرمہ، جدہ، طائف اور ینبع سمیت مغربی علاقوں میں ممکنہ فضائی خطرے سے متعلق انتباہات جاری کیے تھے، جنہیں بعد میں واپس لے لیا گیا۔
واضح رہے کہ 'پاکستان میٹرز' ان تمام دعوؤں کی آزادانہ ذرائع سے تصدیق نہیں کرسکا۔
مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد اور فرانسیسی صدر کی ریاض میں ملاقات، ’پیرس مملکت کے ساتھ مضبوطی سے کھڑا ہے‘
یہ تازہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان سرحد پار حملوں میں دوبارہ شدت آ رہی ہے۔ حوثی تحریک 2014 سے صنعا سمیت یمن کے کئی علاقوں پر قابض ہے، جب کہ سعودی عرب 2015 سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں فوجی اتحاد کی قیادت کر رہا ہے۔
2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے ہونے والی جنگ بندی نے بڑی حد تک سرحد پار حملوں کو روک دیا تھا، تاہم حالیہ مہینوں میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔ یمن میں جاری تنازع پہلے ہی ملک کو شدید انسانی بحران سے دوچار کر چکا ہے۔







