ایرانی فوج کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی بحریہ اب خلیج کے اطراف کے پانیوں اور ایران کی علاقائی حدود کے قریب آنے کی پوزیشن میں نہیں رہی، اگر ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں تو پھر ایسے بیانات دہرانے کا کیا جواز ہے۔ ان کے اس بیان کو امریکا کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا کہ ایران کی حکمت عملی کا مقصد امریکا اور اسرائیل کو ایسی صورت حال میں الجھانا ہے جس کے نتائج ان کے لیے مشکلات پیدا کریں، ایران اپنے دفاعی مقاصد اور علاقائی حکمت عملی پر قائم ہے اور مخالفین کے دباؤ کے باوجود اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کرے گا۔

ایرانی فوجی قیادت کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران خلیج میں امریکی بحری موجودگی کو اپنے لیے ایک اہم سیکیورٹی معاملہ سمجھتا ہے۔ خلیج کا خطہ عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری تجارت کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے یہاں فوجی کشیدگی میں اضافہ بین الاقوامی بحری آمدورفت اور تیل کی عالمی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر محمد مخبر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی دھمکیوں سے طاقت کے بجائے مایوسی اور بے بسی کا تاثر ملتا ہے۔ انہوں نے امریکی اور اسرائیلی قیادت کے سخت بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ایرانی قیادت کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب تہران، واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان کشیدگی برقرار ہے۔ تاہم ایرانی فوج کے سربراہ کی جانب سے امریکی بحریہ کو غیر مؤثر بنانے اور جنگی جہازوں کو خلیج میں داخل نہ ہونے دینے کے دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں ہے۔