فرانس کے وزیر داخلہ لوران نونیز نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گزشتہ ہفتے متعارف کرائی گئی سیکیورٹی تدابیر مزید سخت کی جا رہی ہیں۔ ان اقدامات میں بکتر بند گاڑیوں اور واٹر کینن کا استعمال بھی شامل ہے۔

فرانس میں مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں میں شدت آ گئی ہے، جبکہ بعض مقامات پر لوٹ مار اور فسادات کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

لوران نونیز نے خبردار کیا کہ 31 اکتوبر کا دن امن و امان کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 70 ہزار پولیس اور جینڈرمی اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے، جو گزشتہ ہفتے کے مظاہروں کے دوران تعینات اہلکاروں کی تعداد کے برابر ہے۔ انہوں نے اسے ایک غیر معمولی اقدام قرار دیا۔

وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ ہفتے ملک گیر مظاہروں میں تقریباً 4 لاکھ 10 ہزار افراد شریک ہوئے تھے، تاہم مزدور یونینوں نے شرکا کی تعداد اس سے تقریباً دو گنا بتائی تھی۔ وزارت کے مطابق دو ہفتے قبل ہونے والے مظاہروں کے دوران 2 ہزار 700 سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

ہالووین ماسک پہننے پر انتباہ

یلو ویسٹ تحریک اور طلبہ تنظیموں نے ہفتے کے روز احتجاج کی نئی کال دے رکھی ہے۔ اس صورت حال کے پیش نظر وزیر داخلہ نے مظاہرین کو خبردار کیا ہے کہ وہ ہالووین کے ماسک کو عوامی مقامات پر چہرہ چھپانے اور بدامنی پھیلانے کے لیے استعمال نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ مظاہروں کی اجازت ہوگی، تاہم ان علاقوں میں احتجاج نہیں کرنے دیا جائے گا جہاں امن و امان خراب ہونے کا خدشہ ہے، خصوصاً شہروں کے مرکزی مقامات پر۔

وزیر داخلہ نے دائیں بازو کے سخت گیر گروہوں کو بھی خبردار کیا ہے، جن کی فرانس کے تقریباً 15 شہروں میں بائیں بازو کے مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی اور حکومت سخت ردعمل دے گی۔

لوران نونیز نے یلو ویسٹ تحریک کے بعض کارکنوں اور الٹرا لیفٹ گروہوں پر الزام لگایا کہ وہ سوشل میڈیا پر ہالووین کی شام مظاہروں اور انقلاب کی ترغیب دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس نوعیت کے اجتماعات پر مکمل پابندی ہوگی۔

دوسری جانب یلو ویسٹ تحریک نے ہالووین کے روز اپنے احتجاج کے تیسرے مرحلے کا اعلان کیا ہے۔ تحریک نے قومی اسمبلی اور ملک بھر کے سٹی ہالز کے باہر مظاہرے کرنے کی اپیل کی ہے۔